Apna Karobar: اپنے کاروبار، بزنس کی آمدنی/منافع کو ان تین طریقوں سے گارنٹی کے ساتھ بڑھائیں۔

business ideas karobar tips in urdu

جیسے جیسے کاروبار ترقی کرتے ہیں ویسے ویسے اُن کے گولز یا ٹارگٹس بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں لیکن ایک ٹارگٹ یا گول ایسا ہے جو کبھی بھی تبدیل نہیں ہوتا اور وہ ہے  کہ کیسے اپنے کاروبار، بزنس، کمپنی کا منافع بڑھایا جائے؟۔

بعض کمپنیاں اس گول یا ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لیے کسی  مشہور سیلیبرٹی یا شخصیت کو چنتی ہیں اور اُس کو استعمال کرکے اپنی سیلز، منافع بڑھاتی ہیں لیکن  چوٹے کاروباروں کے لیے یہ طریقہ کار  قابل عمل نہیں ہوتا کیونکہ اُن کے پاس اتنے سرمایہ یا وسائل نہیں ہوتے۔

نوٹ: اگر آپ مزید کاروبار سے متعلق ٹپس پڑھنا چاہتے ہیں تو اس آرٹیکل کو پڑھیں:25 Business Tips in Urdu

کسی بھی کاروبار کو مزید بہتری مطلب منافع بڑھانے کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ اُس کے گاہک کے تعداد میں اضافہ کریں  اور یہ آپ تبھی کرسکتے ہیں جب  آپ اپنے گاہک کو اپنے پراڈکٹس یا سروس کے ذریعے   زیادہ فائیدہ پہنچائیں اور مزید بہتری کے لیے جدت کا سہارا لیں۔

اگرچہ اس کام کو کرنے کے طریقے ہر بزنس، کاروبار، کمپنی میں مختلف ہوتے ہیں لیکن آج میں آپ لوگوں کے ساتھ تین ایسے طریقہ کار شئر کر رہا ہوں جو کہ تقریبا ہر قسم کے کاروبار کے منافع کو بڑھانے  کے لیے  آپ استعمال کر سکتے ہیں۔

تو چلئے چلتے ہیں اس آرٹیکل  کے بنیادی موضوع کی طرف۔

نمبر (1): اپنے گاہک کو خوصوصی توجہ دینے کے لیے اپنے سیلز ٹیم کو بہتر بنائیے۔


اپنے کاروبار کے منافع کو شرطیہ طریقے سے بڑھانے کے لیے اپنے گاہک کے تعداد میں اضافہ کریں، یہ بات اگرچہ کہنے میں نہایت آسان ہے لیکن حقیقت میں بہت مشکل۔

اس کو کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے سیلز کے ٹیم یا سیلز میں کے جائز ضروریات، خواہشات کو ختہ الوسع پوری کرنے کی کوشش کریں اس سے آپ کے سیلز مین پوری طرح  اپنے کام پہ، ٹارگٹس پہ توجہ دیں گے(1)(2)۔

یاد رہے کہ اوپر والا مشورہ سائینسی ریسرچ سے بھی ثابت ہے، ریفرنس یا حوالہ جات نیچے دیے گئے ہیں۔

یاد رکھیے،سائینسی ریسرچ کے مطابق  گاہک کو پوری اور اچھی طرح مطمئن کرنے کے لیے کسی بھی سیلز مین کا رویہ، مہارت اور عمومی خوصوصیات بہت اہمیت رکھتی ہیں(3)(4) لہازا آپ بھی ایسے لوگوں کو اپنی سیلز ٹیم میں رکھیں جن کا رویہ بہتریں، مہارت اعلیٰ ہو اور عمومی خوصوصیات جیسے پرسنالٹی، لباس کا ذوق  وغیرہ بہتر ہو۔

منفی  رویہ، کم مہارت اور خراب عمومی خوصوصیات (سیلز والوں کی) کی وجہ سے گاہک کے ساتھ ڈیلنگ دنیاہ بھر کے کاروباروں کو ہر سال تین سو اڑتیس (338) ارب ڈالر کا نقصان دیتی ہے(5)۔

نمبر (2): اپنے گاہک کو مطمئن کرنے کے لیے نئے طریقے اپنائیے


آپ نے خریداری کے وقت سنا ہوگا " اور کچھ آپ لینا چاہیں گے ؟" یا "اس کے ساتھ کیا آپکو یہ چیز بھی چاہیے" اس طرح کے سیلز کرنے کو انگریزی میں "Upselling" کہتے ہیں۔

اپسیلنگ کا یہ طریقہ کار عمومی طور پر گاہک کو تنگ کرنے کے مترادف ہوتا ہے لیکن جب یہ طریقہ آپ کے گاہک کے مفاد میں ہوتا ہے یعنی اُس کو کسی اور چیز کی خریداری سے حقیقی طور پر فائدہ ہو تو پھر اس کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں اور نہ ہی گاہک اس کا بُرا مناتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر آپ برگر خریدیں اور برگر بیچنے والا ساتھ میں چپس، فرائیز کی آفر کرے تو آپ اُس کو نارمل لیں گے اسی طرح اگر آپ ٹورزم کے کمپنی کے ساتھ ٹرپ پہ جائے اور وہ آپ سے کچھ سروسیز یا پراڈکٹس کا زیادہ چارج کریں تو بھی آپ اس صورت حال کو نارمل لیں گے۔

غرض یہ کہ کسی بھی کاروبار میں گاہک اپسیلنگ کو بُرا نہیں مانتا جب تک کہ وہ اُسے فائیدہ دے، بس آپ نے سوچ سمجھ کے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کب اور کہاں اور کس پراڈکٹ/سروس پہ اپسیلنگ کرنی ہے۔

اسی طرح اگر مثال کے طور پہ  آپ زیادہ قیمت والے پراڈکٹس یا سرویسیز میں ڈیل کرتے ہیں تو  اپنے گاہک کو آفر کرتے وقت وہ آپشن بھی دکھائیے جس سے اُن کا خرچہ کم ہوگا،  مثال کے طور پے اگر  آپ آٹو ڈیلر ہیں تو گاہک کو خریداری کے وقت قسط وار طریقے سے ادائیگی کا بھی بتائیے کہ اس سے کیسے اُس کا ٹوٹل خرچہ کا بوجھ کم ہوگا یا یہ کہ فلاں بنک کے ذریعے گاڑی نکلوائیں اُس میں آپکا خرچہ کم اور فائیدہ بہت ہے وغیرہ وغیرہ۔

اور اگر آپ کے پاس گاہک کو دینے کےایسے آپشن نہ ہوں تو پھر آپکو ایسے آپشن ضرور بنانے چاہیے۔

نمبر (3): اپنے گاہک کو صحیح، درست نئی پراڈکٹس/سرویسیز بیچیں


جو بھی کاروباری حضرات، جو کم سے کم پانچ سال سے اپنے کاروبار سے وابسطہ ہیں وہ میری اس بات سے منتفق ہونگے کہ کسی بھی پُرانے گاہک کو نئی چیز بیچنا نہایت آسان ہوتا ہے بہ نسبت نئے گاہک کو کیونکہ پُرانے گاہک سے آپکا اچھا تعلق بن چکا ہوتا ہے، اُس کا آپ پہ اعتبار ہوتا ہے۔

نئی چیزوں (پراڈکٹ/سروس) کا مطلب منافع میں اضافہ ہوتا ہے لیکن کسی بھی نئی پراڈکٹ یا سروس کو شروع کرنے سے پہلے اچھی طرح تحقیق، ریسرچ کرلیں کہ جو نیا  پراڈکٹ یا سروس  جو آپ بیچنا چاہتے ہیں کیا وہ آپ کے گاہک کے لیے یقینی طور پر ضروری ہے بھی یا نہیں۔

اگر آپ ایسی کوئی چیز بیچیں گے جس کی گاہک کو ضرورت نہ ہو یا وہ گاہک کے ضرورت کو اچھی طرح پوری نہ کر سکے تو پھر اس سے آپ کا منافع بڑھنے کی بجائے کم ہوگا، آپکی  ساکھ کو نقصان پہنچے گا اور آپ گاہک کا قیمتی اعتبار بھی کھو دیں گے۔

سائینسی ریسرچ سے ثابت ہے کہ کسی بھی کاروبار، بزنس والے کو اگر مارکیٹ کا بخوبی علم ہو جس میں گاہک کے متعلق ٹھوس علم اور کاروباری حریف کے متعلق ٹھوس، یقینی علم شامل ہے تو ایسا بندہ اپنے کاروبارمیں فائیدہ مند جدت اور ایسے نئے پراڈکٹس/سرویسیز کو لا سکتا ہے جس سے اسکا بزنس/کاروبار ترقی کرے گا۔(6)(7)

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی کامیاب نئے پراڈکٹ/سروس کو بنانے میں اور کاروبار کو ترقی  دینے میں مارکیٹ کے متعلق ٹھوس علم، ریسرچ بہت زیادہ  اہمیت رکھتی ہے ۔

تو جناب یہ ہوگیا آج کا آرٹیکل، مزید ایسے اہم، انفارمیشنل مواد کے لیے اس لنک کو چیک کریں: کاروبار اُردو میں

اور مستقبل کے تمام آرٹیکلز کو  بذریعہ ای میل بلکل فری حاصل کرنے کے لیے اس ویب سائیٹ کو اپنے ای میل سے سبسکرائب کریں۔

اگر آپ اپنی طرف سے کوئی کمنٹ یا تبصرہ ایڈ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے کمنٹس میں لکھیں۔

بہت بہت شکریہ۔

حوالہ جات:


(1)    Hughes, C.D. and Singler, C.H. (1983), Strategic Sales Management, Addison-Wesley, Reading, MA.
(2)    Churchill, G.A. Jr, Ford, N.M. and Walker, O.C. (1976), “Organizational climate and job satisfaction in the salesforce”, Journal of Marketing Research, Vol. 13, November,pp. 156-68.
(3)    Homburg, C. and Stock, R. (2005), “Exploring the conditions under which salesperson work satisfaction can lead to customer satisfaction”, Psychology and Marketing, Vol. 22 No. 5, pp. 393-420.
(4)    Bradford, K.D., Crant, J.M. and Phillips, J.M. (2009), “How suppliers affect trust with their customers: the role of salesperson job satisfaction and perceived customer importance”, Journal of Marketing Theory and Practice, Vol. 17 No. 4, pp. 383-94.
(5)    http://blogs.salesforce.com/company/2013/07/bad-customer-service.html
(6)    Grinstein, A. (2007), “The effect of market orientation and its components on innovation consequences: a meta-analysis”, Journal of the Academy of Marketing Science, Vol. 36 No. 2, pp. 166-173.
(7)    Kirca, A.H., Jayachandran, S. and Bearden, W.O. (2005), “Market orientation: a meta-analytic review and assessment of its antecedents and impact on performance”, Journal of Marketing, Vol. 69 No. 2, pp. 24-41.



About Publisher Arshad Amin

Certified SEO Professional, Small Business, Start-up, Marketing Expert with ton's of practical, actionable ideas, insights to share, Proud Founder and Owner of www.easymarketinga2z.com and www.topexpertsa2z.com

No comments:

Post a Comment

Start typing and press Enter to search