بزنس آئیڈیا: کمائیں 8 لاکھ 62 ہزار روپے کا منافع ہر مہینے، گارنٹی کے ساتھ۔

business ideas in Pakistan 2020

اسلام و علیکم دوستوں، ایک اور بزنس آئیڈیالے کر آپ لوگوں کی خزمت میں حاضر ہوا ہوں، اگر آپ لوگوں نے اس سے پہلے والے بزنس آئیڈیا نہیں پڑھیں تو یہ پوسٹ چیک کریں:  پچاس بزنس آئیڈیاز اُردو زبان میں۔

اور پچھلے والے بزنس آئیڈیا کے لیے، جس سے آپ فی مہینہ کم سے کم چار لاکھ اور زیادہ سے زیادہ چھ لاکھ روپے کا منافع کما سکتے ہیں اُس پوسٹ کو پڑھنے کے لیے یہ آرٹیکل چیک کریں: گھریلوکاروبار/بزنس  آئیڈیا: کمائیے کم سے کم4  لاکھ اور زیادہ سے زیادہ 6 لاکھ روپے فیمہینہ وہ بھی صرف 8 لاکھ کے انویسٹمنٹ سے۔

چلئے اب بات کرتے ہیں آج کے بزنس آئیڈیا کی، اس بزنس یا کاروبار میں آپ  40 سے 65 فیصد تک فی ایک روپیہ سیل کے منافع کما سکتے ہیں، مطلب  اگر آپ اس کاروبار میں ایک روپے کی سیلز کرینگے تو آپ کم سے کم 40 پیسے  اور زیادہ سے زیادہ 65 پیسے   کا منافع کمائینگے۔

بزنس آئیڈیا:ردی اخبار سے پینسل بنانے کا کاروبار۔

پاکستان میں سٹیشنر ی کےمارکیٹ کی   کُل قدر اربوں روپے  میں ہے، مطلب پاکستان میں سٹیشنری (پینسل) کی مارکیٹ کافی اچھی ہے۔

ردی اخبار سے بننے والے یہ پینسل لکڑی والے پینسل جتنی سخت ہوتی ہیں اور اُس جتنی خوب صورت اور کوالٹی کے لحاظ برابر ہوتی ہیں، البتہ ردی اخبار سے بنے پینسل لکڑی والے پینسل سے کافی سستی پڑتی ہیں، جس کی وجہ سے منافع زیادہ ہے اس بزنس میں۔

اس کے علاوہ اس پینسل میں پینٹ یا کلر کی بجائے رنگین کارٹون وغیرہ کی شرنک پیکنگ استعمال ہوتی ہے جس سے نہ صرف یہ بہت خوب صورت ہوجاتا ہے بلکہ اسی وجہ سے اس پینسل کی ڈیمانڈ بھی کافی اچھی ہے سٹوڈنٹس میں۔

اس کاروبار کو کامیابی سے شروع کرنے کے لیے مندرجہ ذیل باتیں ذہن میں رکھیں۔

1۔ اس کاروبار میں اخبار وغیرہ خام مال کے طور پہ استعمال ہوتے ہیں جو کہ آپکو 15 سے 20 روپے فی کلو میں پڑتے ہیں۔

2۔ اخبار  سے بنے ایک پینسل کا وزن تقریبا 5 گرام ہوتا ہے۔ مطلب آپ ایک کلو کے ردی اخبار سے کم سے کم  200 پینسل بنا سکتے ہیں جبکہ اگر 20 روپے فی کلو کا حساب کیا جائے تو  ایک دانے پہ  خام مال کا کُل خرچہ دس پیسے ہوگا۔

ویسے اس مشین سے آپ ردی کاغذ سے بھی پینسل بنا سکتے ہیں لیکن آپ نے اُس ردی کاغذ کو پہلے کرافٹ  پیپر میں تبدیل کرنا ہوگا اور اُس میں تبدیل کرنے کے لیے آپکو کرافٹ پیپر بنانے والی مشین خریدنی ہوگی۔

3۔ کام شروع کرنے کے لیے آپکو کو کرایہ پہ جگہ درکا ر ہوگی جہاں آپ پینسل بنانے  کا پورا سیٹ اف لگا سکیں ، کام کسی ایسے شہر سے شروع کریں جہاں سے آپ آسانی کے ساتھ پورے پاکستان میں اپنا مال بلٹی کے ذریعے پہنچا سکیں۔

4۔ پینسل کے لیے لیڈ ، ربڑ ، ربڑ کوٹنگ (جو الومینیم کی ہوتی ہے)، گُلو وغیرہ کے لیے  یا تو آپ اور مشینے خریدیں گے  جن سے آپ یہ خام مال بنا سکیں یا پھر مارکیٹ سے خریدیں گے، جہاںان سارے چیزوں کا کم سے کم  ریٹ  20 پیسے فی دانہ اور زیادہ سے زیادہ   60  پیسے فی دانہ/پینسل ہے، ریٹ میں اونچ نیچ کوالٹی،  مقدار، سپلائی، طلب اور دیگر کمپنیوں کی مارکیٹ میں مقابلے کی وجہ سے ہے۔

5۔ پینسل کو پیک کرنے کے لیے آپ کو رنگین اچھے کوالٹی کے بکس درکار ہونگے جن میں آپ دو  سے تین درجن پینسل پیک کرسکیں، ایسے بکس کی قیمت 4- 6 روپے ہوگی (2019 کے مارکیٹ ریٹ کے مطابق) مطلب فی پینسل بکس کا خرچہ اگر آپ تین درجن(  چھ روپے کے) ایک بکس میں پیک کریں تو  16 پیسے ہوگا۔

6۔ پینسل کے بکس کو اگر چوبیس ڈبوں کے کارٹن میں پیک کریں  جو آپکو 20 سے 25 روپے میں پڑتا ہے تو  فی پینسل/دانہ کارٹن کا خرچہ اگر ہم 20 روپے کے کارٹن میں پیک کریں  تو وہ دو پیسے ہوگا۔

7۔ مال مارکیٹ سپلائی کرنے کے لیے، بلٹی کے لیے، خام مال لانے کے لیے آپ کو ایک عدد سوزکی ڈبہ یا پھر لوڈر رکشہ درکار ہوگا۔

8۔ آپ نے شروع میں کم سے کم تین سیلز مین رکھنے ہیں جن میں سے ایک لوکل مارکیٹ کو کوور کرے گا جبکہ باقی دو  ملک  کےدوسرے شہروں ، مارکیٹوں، علاقوں میں ڈسٹری بیوشن، ہول سیل وغیرہ پہ کام کرینگے ، کم سے کم تنخواہ 15 ہزار روپے  بیسک جبکہ سیلز کمیشن اس کے علاوہ اور ساتھ ہی ساتھ میں فیول، ٹریول آلاؤنس، فوڈ وغیرہ  بھی دینی ہوگی۔

مطلب کُل خرچہ ایک سیل مین پہ مہینے کا یہی 20  سے 22 ہزار روپے آئے گا، اس خرچے میں سیلز پہ کمیشن شامل نہیں ہے۔ مطلب مہینے کے تین سیلزمینوں کا کُل خرچہ 60 ہزار روپے ہوگا۔

9۔کاروبار جمنے میں وقت لگے گا کم سے کم ڈیڑھ سے دو سال (بہ شرطہ کہ آپ لوکل اور باہر کے مارکیٹ کو قابو کریں )لہازا بلاوجہ ٹینشن کی ضرورت نہیں۔

10۔ مشین پہ کام کرنے کے لیے آپکو تین مزدور درکار ہونگے ، ایک مزوور کو آپ مہینے کا دس ہزار دیں تو یہ ٹوٹل مہینے کے تیس ہزار روپے ہوئے۔

فی مہینہ سیلز، منافع، خالص منافع اور کُل خرچے کی تفصیلات:

گذرے ہوئے پوائینٹس میں، میں نے فی پینسل /دانہ خام مال(ردی اخبار، لیڈ، ربڑ، ربڑ کوور، گُلو وغیرہ)، پیکنگ، کارٹن کا خرچہ دیا تھا جو اگر ہم ٹوٹل کریں تو ہمارے پاس فی دانہ مینوفیکچرنگ کاسٹ یا خرچہ آئے گا جو کچھ اس طرح سے ہے۔

اب اگر آپکے سارے سیلز مین ڈیلی  کم سے کم 20 کارٹن مال بیچے اور وہ بھی  پرچون میں یا پھر ہول سیل میں تو آپکا  کُل منافع  روز اور مہینے  کا کچھ اس طرح سے ہوگا۔ (ٹیبل کو صفائی سے دیکھنے کے لیے تصویر پہ کلک کریں)

مطلب مہینے کا پرچون میں کُل منافع کم سے کم 8 لاکھ 62 ہزار روپے ہوگا جبکہ اگر سارا مال سارا مہینہ ہول سیل میں فروخت کیا جائے تو کُل منافع 5 لاکھ 48 ہزار روپے ہوگا۔

چلئے اب بات کرتے ہیں خالص منافی کی، مندرجہ ذیل کالم کو توجہ کے ساتھ پڑھیئے۔

( ٹیبلکو صفائی سے دیکھنے کے لیے تصویر پہ کلک کریں)

مشین کے بارے میں تفصیلات:

مارکیٹ میں لوکل اور امپورٹڈ مشین مختلف کمپنیوں اور ملکوں کے موجود ہیں جن کی قیمتیں بھی کوالٹی، فیچرز، فنکشنز کی وجہ سے مختلف ہیں، لہازا میں  صرف ڈیمو کی خاطر یہاں پہ ایک  برینڈ کے مشین کی بات کرونگا، باقی مشینوں کے بارے میں معلومات کے لیے آپکو مارکیٹ وزٹ کرنا ہوگا۔

جو مشین میں یہاں پہ ڈسکس کر رہا ہوں وہ  6 پارٹس یا حصوں پر مشتمل ہے، مطلب  پنسل بننے میں چھ مشینوں سے آپ نے کام لینا ہے۔

نیچے ان 6 مشینوں کی تصویر مرحلہ وار شئر  کی گئی ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح پینسل اخبار سے   صرف چھ سٹپس میں بنتی ہے۔
اس پورے سیٹ اف سے آپ ڈیلی 18 سے 20 ہزار دانے بنا سکتے ہیں۔(اوپرکے تصویر  کو صفائی سے دیکھنے کے لیے تصویر پہ کلک کریں)

آئیے اب ذرا ان چھ مشینوں کے بارے میں تھوڑی ڈیٹیل کے ساتھ بات کرتے ہیں کہ یہ کرتے کیا ہیں اور کس طرح کرتے ہیں۔

اس پہلے والے مشین سے آپ نے پینسل کے سائیز کے مطابق اخبار کو کاٹنا ہوتا ہے، یہاں آپ  کا لیبر ڈھیر سارے اخبار کو منتخب شدہ سائیز کے مطابق کاٹے گا۔

جب ڈھیر سارے اخبار کاٹ چکا تو پھر وہ اس مشین میں اُنھیں لگائے گا، یہاں پہ یہ خیال رکھیں کہ جگہ صاف ستھری ہو اور اخبار میں لیڈ کو صحیح لگا کے فیڈر میں رکھیں، سارا طریقہ کار مشین کے مینول بک میں موجود  ہوتا ہے  اور مشین  بنانے والی کمپنی ڈیٹیل کے ساتھ آپ کو، آپ کے لیبر کو سمجھائے گی، ویسے آپ فون سے ویڈیو لے کے بھی  اس سارے طریقہ کار کو الف تا  ی اپنے پاس ریکارڈ کرکے سیو کرسکتے ہیں۔

اس سے آپ کو آسانی ہوگی کہ کس مشین سے کس طرح کام لینا ہے۔

جو پینسل کے راڈز یا چھڑیوں کو خشک کرنے کی مشین ہے، اس میں کیبن یا   الماری سی ہوتی ہے  جس میں بجلی/گیس  درجہ حرات کو بڑھانے اور کنٹرول رکھنے کا نظام لگا ہوتا ہے، اس کا کیبن بہترین کوالٹی کے ایس ایس سٹیل کا بنا ہوتا ہے جس کے درمیان میں انسولیشن کے لیےگلاس ہول  لگا ہوتا ہے جبکہ مشین کے اندر دیکھنے کے لیے مضبوط شیشہ بھی لگا ہوتا ہے جس سے کہ آپ کیبن کے اندر دیکھ سکتے ہیں۔

اس مشین میں سٹاک بیرل ،  پینسل کے  راڈز کو لے جانے والا کنویئر ، ڈبل سائیڈ ساپن اور پنسل کو پالش کرنے کا نظام ہوتا ہے۔ یہ مشین بہت کم بجلی پہ کام کرتا ہے اور اس کے چلانے کا کام نہایت ہی آسان ہے۔

اس مشین میں شرنک والی پلاسٹک یعنی وہ پلاسٹک جو حرارت کی وجہ سے چمٹ جائے استعمال ہوتی ہے، اس طرح نہ صرف پینسل خوب صورت ہو جاتی ہے بلک ساتھ ہی ساتھ میں پانی، نمی وغیرہ سے محفوظ بھی ہو جاتی ہے۔

آخر میں اس مشین سے آپ پینسل پہ ربڑ المونیم کوٹنگ میں لگا تے ہیں اور لیجئے آپ کا پینسل تیار ہے۔ اس سارے کام کے لیے تین لیبر/مزدور بہت ہیں۔

شروع میں اگرچہ لیبر/مزدور تربیت یافتہ، ماہر نہیں ہونگے لہازا کام سست رہے گا لیکن ایک مہینے بعد کام کافی تیز ہوگا انشاءاللہ۔

اس مشین کی ویڈیو کچھ ہی دنوں میں اس یوٹیوب چینل پہ اپلوڈ ہو جائے گی لہازا تھوڑا انتظار کریں اور اگر آپ نے اور مشینوں  کی ویڈیوز دیکھنی ہوں تو اس چینل کو وزٹ کریں۔

اگر آپ نے مزید کاروبار ، سیلز، مارکیٹنگ وغیرہ سے متعلق مواد، آرٹیکز پڑھنا ہے تو  مندرجہ ذیل لنک کو چیک کریں۔

کاروبار اُردو زبان میں

تو  جناب یہ ہوگیا ہمارا آج کا آرٹیکل، مزید ایسے انفارمیشنل آرٹیکلز کے لیے اس ویب سائیٹ کو سبکسکرائیب  کریں اور اس آرٹیکل کے لنک کو اپنے دوستوں کے ساتھ فیس بک پہ ضرور شئر کریں۔

بہت بہت شکریہ!




About Publisher Arshad Amin

Certified SEO Professional, Small Business, Start-up, Marketing Expert with ton's of practical, actionable ideas, insights to share, Proud Founder and Owner of www.easymarketinga2z.com and www.topexpertsa2z.com

No comments:

Post a Comment

Start typing and press Enter to search