New Business Ideas in Pakistan 2020 [Become Karorpati in 5-10 Years] [Electric Rickshaw, Bike, Cars]

بزنس آئیڈیاز کی سیریز میں ایک اور بزنس آئیڈیا پیش خدمت ہے، آج کا آئیڈیا مینوفیکچرنگ  بزنس کے حوالے سے ہے بھی اور نہیں بھی،  مطلب اگر آپ اس کاروبار میں مینوفیکچرنگ نہیں کرتے تو پھر بھی آپ اچھا خاصہ منافع کما سکتے ہیں اور جب میں بولوں اچھا خاصہ تو مطلب اچھا خاصہ مطلب آپ آنے والے پانچ دس برسوں میں کڑوڑوں میں کھیل رہے ہونگے  اور آپ اگر مینوفیکچرنگ کرینگے تو آپ اور بھی زیادہ منافع کمائینگے انشاء اللہ۔
new business ideas pakistan 2020 electric rickshaw, car, motorcycle, bike, bus

اگر آپ نے آئیندہ کے پانچ سے دس برسوں میں کڑوڑ پتی بننا ہے تو اس آرٹیکل کو  پورے غور اور توجہ کے ساتھ آخر تک پڑھیں۔

اگر آپ نے پچھلے والا بزنس آئیڈیا نہیں پڑھا تو یہ لنک چیک کریں: گھریلو کاروبار کمائیں کم سے کم 

اس  بزنس آئیڈیا پہ جانے سے پہلے میں آپ سے اس کے متعلق کچھ نہایت ہی  اہم باتیں شئر کرنا چاہتا ہوں۔

رچرڈ برنسن جو کہ کاروباری دنیاہ میں عالمی سطح پہ ایک جانا پہچانا نام ہے اور جس نے ویرجن گروپ کی بنیاد رکھی جو کہ تقریبا  چار سو کمپنیوں کی مالک اور نگران ہے  اور یہ 4 سو کمپنیاں مختلف فیلڈز، شعبوں میں کام کرتی ہیں۔
اُس کا ایک مشہور قول ہے "منافع بخش کاروباری مواقع کی مثال  بس سٹاپ پہ آنے والے بسوں کی طرح ہے، ہر وقت ایک بہترین موقع بس سٹاپ کی طرف آرہا ہوتا ہے!"

مطلب کہ  حالات جیسے بھی ہوں ایک بہترین کاروبار ، ایک بہترین آئیڈیا ہر وقت آپ کے لیے موجود ہوتا ہے۔

اب آتے ہیں ایک اور اہم نقطے کی طرف،  تھیوڈور لیویٹ  جو کہ ہارورڈ بزنس سکول (جو عالمی سطح پہ دنیاہ کے بہترین بزنس سکولوں میں شمار ہوتا ہے) کے پروفیسر تھے نے ایک آرٹیکل لکھا "مارکیٹنگ مایوفیا"  جو کہ کاروبار کی دنیاہ میں ، مارکیٹنگ کی دنیاہ میں کافی مشہور ہے۔
اُس آرٹیکل کا لب لباب یہ ہے کہ  ہر وہ کاروبار بالاخر ناکام ہو جاتاہے، ختم ہوجاتا ہے جو صرف اپنے  پراڈکٹ یا سروس کو بیچنے میں لگا ہوتا ہے بجائے اپنے گاہک کے ضروریات کو اچھی طرح سے پورا کرنے کے۔

اس بات کو ایک مثال سے واضح کرتا چلوں، ہر ایک  صنعت ایک زمانے میں بہترین فائدے، منافع والی صنعت ہوتی ہے، مثال کےطور پہ ایک زمانے میں تانگہ  گاڑی بنانے والے اچھی خاصی کمائی کرتے تھے کیونکہ اُس زمانے میں تانگے  کے علاوہ کوئی اور شئے ایسی تھی نہیں جو اُس کے مارکیٹ کو چیلنج کرسکے لیکن پھر فورڈ موٹر آیا  اور  تانگہ گاڑی کی صنعت  آہستہ آہستہ بلکل ختم ہوگئ اور جو لوگ برسوں، دہائیوں سے اس کاروبار سے وابستہ  تھے اور اچھا خاصہ کما رہے تھے وہ سارے اُس میں نقصان کربیٹھے کیونکہ اُن کے کاروبار کا مقصد تانگہ گاڑی بیچنا تھا  گاہک کی ضروریات پوری کرنا نہیں تھا ، یہاں پہ گاہک کی  ضرورت  ایک جگہ سے دوسری جگہ محفوظ طریقے سے تیز سے تیز تر سفر یا ٹارنسپورٹیشن تھی۔

اب آتے ہیں اپنے بزنس آئیڈیا پہ،آپ نے اس بزنس آئیڈیا کو رچرڈ برنسن اور تھیوڈور لیوٹ کے نقطہ نظر سے دیکھنا ہے اور پھر آپ کو سمجھ آئیگی کہ میں نے یہ دو حقائق کیوں بیان کیے۔

 آج کا بزنس آئیڈیا  بجلی سے چلنے والے گاڑی، رکشے، موٹرسائیکل  سے متعلق ہے، یہ کاروبار اس سال پاکستان میں اپنی انٹری مار رہا ہے  اور  کم ترین قیمت میں سفری سہولت گاہک کو مہیا کرکے  یہ موجودہ پٹرول، گیس سے چلنے والے گاڑی ، رکشے، موٹرسائیکل کے مارکیٹ کو اُلٹ پلٹ دے گا بلکل فورڈ کی طرح۔۔۔

اس کاروبار کو بڑے لیول پہ پاکستان میں ابھی صرف پانچ کمپنیاں  شروع کرچکی  ہیں جن میں سے پہلی مشہور کراؤن گروپ  ہے ،  دوسری ساز گار کمپنی ہے جو کہ صرف بجلی سے چلنے والے رکشہ میں ڈیلنگ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ تیسری لاہور میں قائم الیکٹرک موٹرسائیکل کمپنی اوج ٹیکنالوجیز ہے، کراؤن گروپ تو برقی گاڑی، رکشہ، موٹر سائکل اور ایمبولنس تک بنا چکی ہے، جبکہ برقی موٹر سائیکل بنانے  میں ایم ایس گروپ بھی شامل ہے، اس کے علاوہ ایس زیڈ ایس گروپ  نے بھی کراچی میں اپنے کارخانے  کی پہلے فیز کو مکمل کر لیا ہے جہاں پہ برقی سواریاں تیار ہونگی۔

اس کے علاوہ عالمی سطح پہ برقی سواریوں کے بنانے کے حوالے سے مشہور، اس شعبے کی سب سے بڑی کمپنی بی وائی ڈی بھی پاکستان  میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے آرہی ہے۔۔۔ اب اگر اتنی بڑی کمپنی پاکستان آرہی ہے تو مطلب  کھربوں کا مارکیٹ ہے  یہاں پہ جس سے یہ کمپنی کھربوں کماسکتی ہے اور آپ بھی  کڑوڑ پتی بن سکتے ہیں۔۔۔۔۔

کچھ حقائق اس بزنس اور  برقی سواریوں کے بارے میں۔

electric car rickshaw motorcycle business in pakistan

نمبر 1۔ جس طرح حکومت نے غیر ماحول دوست شاپنگ بیگس کے خلاف نہایت سخت اقدام لیا ہے اسی طرح مستقبل میں وہ گیس، پٹرول کے گاڑیوں کے خلاف بھی بھاری ٹیکس، بھاری فیول کی کے قیمتوں کے صورت میں پٹرول،  گیس سے چلنے والے سواریوں کے خلاف لے سکتی ہے اور چونکہ گلوبل وارمنگ، کاربن ایمشن عالمی سطح کا ایک اہم، سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے جس نسل انسانی  کی بقا کو خطرہ ہے تو ممکن ہے کہ عالمی سطح پر اس کے خلاف کوئی سخت قانون پاس ہوجائے اور پھر موجودہ گیس، پٹرول سے چلنے والی سواریاں اس کے زیر عتا ب آئیں، اس کے علاوہ ایک اندازے کے مطابق برقی سواریوں کے آنے سے پاکستان کو امپورٹ کے زمرے  میں دو بلین ڈالر کی سالانہ بچت ہوگی۔

 حکومت پاکستان کی یہ توقع  اور منصوبہ بندی ہے کہ  سنہ  2030 میں پاکستان میں کم سے کم 30 فیصد سواریاں برقی ہونی چاہیے، جبکہ میرے اندازے میں جو کہ ٹھوس حقائق پر مبنی ہے، پاکستا ن میں کم سے کم 70 فیصد سواریاں سنہ 2030 تک برقی ہونگی، مزید تفصیلات کے لیے  آگے آنے والے حقائق بہ غور پڑھیں۔

حکومت نے برقی سواریوں کے مینوفکچرنگ  کرنے والے کارخانہ داروں پہ ٹیکس میں بھی خاطر خواہ چھوٹ دی ہے، ٹیکس کو 43 فیصد سے کم کرکے  11 فیصد پہ لایا گیا ہے۔

نمبر 2۔ پٹرول، گیس کی قیمتوں میں آئے دن اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے رکشے، ٹیکسی والے اور عام عوام  کسی بھی اچھے متبادل کو کھلے دل سے قبول کرنے کے لیے بیتاب ہیں بس متبادل آنے کی دیر ہے۔۔۔۔۔۔!

نمبر 3۔ ساز گار کے مطابق  ایک لیٹر پٹرول میں جتنا ایک رکشہ چلتا ہے اُتنا ہی وہ ایک یونٹ بجلی میں بھی چلتا ہے، پٹرول کی قیمت  117 روپے اور ایک یونٹ کی قیمت 20 تا 21 روپے ہے(فروری 2020)، مطلب  اگر کوئی رکشے والا روز کا دس لیٹر ڈالتا ہے تو  اگر وہ  برقی رکشے سے کام چلائے تو اس کو روز کی  960 روپے کی بچت ہوگی اگر 21 روپے فی یونٹ کے حساب سے حساب لگایا جائے، اس کے علاوہ اس  رکشے میں نہ آئل کی ضرورت ہے اور نہ ہی ٹیونگ تو مطلب سالانہ تیس ہزار روپے کی یہ بچت بھی ہوگئی، اب اس میں مارکیٹ میں موجودہ کرایوں کو لے لیں، تو مطلب اگر ایک رکشہ ڈرائیور روز کا پٹرول میں ایک ہزار کماتا ہے دس لیٹر ڈال کہ تو پھر وہ برقی رکشے میں روز 1960 روپے کمائے گا۔

نمبر 4۔ پٹرول یا گیس تو ہم گھر میں نہیں بناسکتے لیکن سولر پینل سے ہم بجلی باآسانی بناسکتے ہیں اور پھر اس مفت بجلی کو استعمال کرکے ہم  اپنی برقی سواریوں سے بچت میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں اور یہ ٹیکنالوجی  پہلے سے ہی مارکیٹ میں موجود ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگر آپ اس ٹیکنالوجی  میں بھی سرمایہ لگاتے ہیں تو مستقبل  قریب میں آپ بہترین فائدہ اس کاروبار سے اُٹھاینگے۔

نمبر 5۔  ایم ایس گروپ کے چئرمین چوہدری زاہد کے مطابق ان کے برقی موٹرسائکل میں  نہ گیئر ہے، نہ  کک، نہ گئر لیور نہ چین گرای اور نہ ہی آئل کی ضرورت ہے،  جبکہ اوج ٹیکنالوجزیز کے  سی ای او عثمان شیخ کے مطابق  وہ کسی بھی موٹرسائیکل کو برقی موٹر سائیکل میں بدل سکتے ہیں، مطلب کہ اگر آپ اوج والوں سے بات کرکے اپنے علاقے، شہر، قصبے میں اس کا  ورکشاپ کھولیں تو  آنے والے ایک دو سال  اس ٹیکنالوجی کے عام ہوتے ہی بہترین منافع کماسکتے ہیں۔

 چوہدری زاہد مزید بتا تے ہیں کہ اگر آپ عام موٹر سائیکل کو روز 50 کلومیٹر تک چلاتے ہیں تو اُس کا خرچہ مہینے کا 4 ہزار روپے آتا ہے جبکہ برقی موٹرسائیکل میں مہینے کا یہ خرچہ صرف 5 سو روپے ہوگا مطلب 3500 روپے کی بچت ، بڑے لوگوں کو شائد یہ بچت کم لگے لیکن جو موٹر سائیکل چلانے والے لوگ ہیں انہیں اندازہ ہوا ہوگا کہ  یہ ناقابل یقین ہے۔

نمبر 6۔ عام طور پہ جب  بجلی سے سواری چلنے کی بات آتی ہے تو عموما لوگ  کے ذہن میں برقی گاڑی کا خیال آتا ہے جبکہ  حقیقت میں برقی  اس ٹیکنالوجی کا سب سے زیادہ فائدہ بس والوں کو ہوگا،  پی ای وی پی ایم ٹی  اے کے چئرمین  احتشام الحق کے مطابق  ایک ڈیزل سے چلنے والا بس ایک لیٹر ڈیزل میں دو کلومیٹر چلتا ہے جبکہ  اتنا ہی فاصلہ ایک برقی بس بجلی کے صرف دو یونٹس میں طے کرسکتا ہے،  جو کہ چالیس روپے ہے جبکہ ڈیزل  127 روپے ہے، اب اگر ایک ڈیزل والا بس سارا دن ایک شہر میں تین سو کلومیٹر چلے تو اس کا خرچہ  19 ہزار 50 روپے ہوگا اور ایک برقی بس  یہ فاصلہ صرف  6 ہزار 3 سو روپے میں طے کرے گا مطلب روز  13 ہزار 2 سو روپے کی بچت!

نمبر 7۔ کارؤن گروپ نے جو برقی گاڑی مارکیٹ میں لانے کا ارادہ کیا ہے وہ صرف 4 لاکھ کی ہوگی جبکہ برقی رکشہ صرف دو لاکھ اور موٹر سائیکل صرف 55 ہزار کا۔۔۔۔ آگے آپ خود سوچیں اس بزنس میں عنقریب جو بھی لوگ داخل ہونگے وہ کم سے کم آئیندہ  پانچ سے دس سالوں میں کڑوڑ پتی بن جائینگے۔

اس بزنس کو شروع کیسے کیا جائے۔۔۔۔۔؟

اس سوال کا جواب نہایت آسان ہے، آپ  نے بس ان کمپنیوں کا وزٹ کرنا ہے جو اس پوسٹ میں شئر کی گئی ہیں اور اپنے اپنے علاقے، شہر،  ضلع  میں سیلز کرنے کے لیے ڈیلنگ کرنی ہے، چونکہ ابھی  ملک کا سارا مارکیٹ خالی ہے لہازا ابھی سے آپ اس بزنس میں انویسٹ کرکے  کافی آسانی کے ساتھ اپنے کاروبار کو بہت بڑی  کامیابی کی جانب لے جاسکتے ہیں، اس کاروبار میں فی ایک روپیہ سیلز کے آپ کم سے کم 7 فیصد اور زیادہ سے زیادہ 15 فیصد تک کا منافع کما سکتے ہیں مطلب اگر آپ دو لاکھ کا  برقی رکشہ بیچیں گے تو آپ  7 فیصد منافع کے حساب سے 14 ہزار کماینگے اور 15 فیصد کے حساب سے  30 ہزار کمائینگے۔

آپ  اس کاروبار کو ایک چوٹی سے دکان سے شروع کرسکتے ہیں جس  میں آپ ایک دو رکشے/گاڑیاں اور ایک دو موٹر بائیکس کھڑے کر سکیں، ایسی دوکان مارکیٹ میں آپکو 8 سے 12 ہزار روپے کے کرایے پہ مل جائے گی، باقی گودام آپ کسی بھی سستی جگہ پہ رکھ سکتے ہیں۔

آپ سیلز کے لیے ایک دو بند بھی پندرہ سے بیس ہزار فی مہینہ کی تنخواہ پہ رکھ سکتے ہیں اور آپ آسانی کے ساتھ شروع کے دوسرے تیسرے مہینے میں فی مہینہ کم سے کم دس سے پندرہ موٹرسائکل، 5 تا  8 برقی رکشے نکال سکتے  ہیں، یہ بات میں آپکو چنگ چی، تیز رفتار، پاک سٹار، روڈ پرنس وغیرہ کے رکشوں کے  تجربے کے بنیاد پہ بتا رہا ہوں، جب یہ سواریاں نئی نئی مارکیٹ میں آئی تھی، جبکہ موٹر سائیکل   کی بھی یہی صورت حال تھی جب چائنا سے پارٹس آکے موٹر سائیکل مختلف ناموں سے یہاں پہ اسمبل ہونے لگے۔

ساتھ ہی ساتھ میں اگر آپ پٹرول، گیس کے موٹر سائیکل،  رکشے کو اپنے دوکان پہ برقی سواری میں تبدیل کرینگے تو یہ سونے پہ سہاگہ ہوجائے گا۔

سو اگر آپ مہینے کے  پانچ رکشے فروخت کریں تو آپ مہینے کے ستر ہزار رکشوں سے اور 38 ہزار 5 سو 7 فیصد کے منافع کے حساب سے دس موٹرسائیکلوں کے سیلز سے جس میں ایک موٹر سائیکل کی قیمت 55 ہزار ہو، مطلب ایک لاکھ کا منافع  دوسرے یا تیسرے مہینے سے اور اس میں  دو گاڑیاں چار لاکھ والی ایڈ کرلیں تو 7 فیصد کے حساب سے 56 ہزار یہ ہوئے مہینے کے، مطلب کُل منافع ایک لاکھ 50 ہزار روپے وہ بھی دوسرے، تیسرے مہینے سے۔۔۔۔۔

یاد رہے اس میں آپ قسطوں پہ بھی مال بیچ اس سے کئی گناہ زیادہ منافع کماسکتے ہیں، جبکہ پانچ چھ مہینے بعد آپ انشاء اللہ مہینے کے دس پندرہ رکشے اور  بیس سے تیس موٹر سائیکل بیچیں گے اور اس میں آگے اور بھی بہتری  آئے گی،  آپ کی سوچ سے بھی زیادہ ، انشاء اللہ۔

تو جناب یہ ہوگیا آج کا بزنس آئیڈیا مزید ایسے منفرد اور منافع بخش کاروری آئیڈیاز کے لیے یہ لنک چیک کریں: کاروبار اُردو میں

اور اس سائیٹ کو اپنے ای میل سے سبسکرائیب کریں تاکہ مستقبل کے تمام بزنس آئیڈیاز، مشورے آپ بلکل فری میں اور بروقت موصول ہوں۔

اور ہاں میرے اس یوٹیوب چینل کو ضرور چیک کریں اس پہ بھی بہت سے بزنس آئیڈیاز شئر کی گئی ہیں۔

نوٹ: اس ویب سائیٹ کے آرٹیکل، پوسٹ  کاپی کرکے فیس بک  پہ، کسی ویب سائیٹ پہ، ای بک میں یا کسی اور پلیٹ فارم پہ کاپی کرکے پیسٹ کرنا کاپی رائیٹس وایلشن کے زمرے میں آتا ہے اور ایسا کرنے والے کے خلاف کاپی رائیٹس کے تحت کاروائی کی جائے گی، لہازا ایسا کرنے سے  اجتناب کریں اور صرف آرٹیکل کا لنک فیس بک پہ، کسی سائیٹ پہ،  ای بک وغیرہ  میں شئر کریں۔


About Publisher Arshad Amin

Certified SEO Professional, Small Business, Start-up, Marketing Expert with ton's of practical, actionable ideas, insights to share, Proud Founder and Owner of www.easymarketinga2z.com and www.topexpertsa2z.com

No comments:

Post a comment

Start typing and press Enter to search