New Business Ideas in Pakistan 2020 [Sweets Wholesale/Retail Business, High Success Rate]

جی ناظرین بزنس آئیڈیاز کی سیریز میں ایک اور بزنس آئیڈیا لے کہ آپ لوگوں کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، آج کا بزنس آئیڈیا سویٹس کے بزنس سے متعلق ہے۔

ایک نہایت ہی اہم اور لاجواب پوسٹ: 50 بزنس آئیڈیاز/کاروبار پاکستان میں (ضرور پڑھئیے)

sweets distribution wholesale business pakistan کاروبار سویٹس ہول سیل ڈسٹریبیوشن پاکستان بزنس
اگر آپ نے پچھلے والے بزنس آئیڈیاز نہیں دیکھیں تو اس سائیٹ کے اُردو سیکشن کو چیک کریں، چلئے بات کرتے ہیں آج کے بزنس آئیڈیا کی، اس کاروبار میں فی ایک روپیہ سیل منافع 5 فیصد سے لیکر 15 فیصد تک ہے، مطلب اگر آپ اس بزنس میں سو روپے کی سیلز کرینگے تو آپ کم سے کم کے حساب سے 5 روپے اور زیادہ سے زیادہ کے حساب سے 15 روپے کا منافع کمائینگے۔

منافع میں اونچ نیچ  کی وجہ سویٹس کی  مختلف برینڈز کی وجہ سے ہے، مطلب اگر آپ کینڈی لینڈ، گیبز وغیرہ کا مال بیچوگے تو اُس میں یہی کوئی 4 سے 5 فیصد تک منافع ہوتا ہے جبکہ اگر آپ درمیانے درجے کے کمپنی کا مال بیچو گے تو اُس میں آپ 8 سے 10 فیصد تک کا منافع کما سکتے ہیں جبکہ اگر آپ لوکل میڈ سویٹس بیچوگے تو اُس میں آپ کم سے کم 15 فیصد تک کا منافع کما سکتے ہیں۔

اس کاروبار میں اگرچہ منافع کم دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں اس میں منافع سیلز کی زیادتی کی وجہ سے کافی زیادہ ہے، اس کی تفصیل آگے آئے گی۔

اس کاروبار میں آپ سویٹس کے ساتھ ساتھ دوسرے متعلقہ اشیاء جو پرچون میں بکتی ہیں وہ بھی رکھ سکتے ہیں۔

اس کاروبار  کو کامیابی سے شروع کرنے کے لیے مارکیٹ کی سروے کریں تاکہ آپ بہتر سے بہترین فائدہ اپنے سرمائے سے اُٹھا سکیں۔

:سروے کا طریقہ

نمبر1۔آپ جہان پہ بھی یہ کاروبار شروع  کرنا چاہتے ہیں اُس علاقے میں ارد گرد کے 10 کلومیٹر کے ایریاء میں پرچون کی دوکانیں معلوم کرلیں کہ وہ کتنی ہیں، آپ کو کم سے کم 100 دوکانیں معلوم کرنی ہونگی۔

نمبر 2۔ ان دوکانوں کا لیول چیک کریں کہ اس میں سے کتنی چھوٹی، کتنی درمیانے اور کتنی بڑے لیول کی ہیں، بڑے لیول سے میری مُراد وہ دوکانیں جو کم سے کم ایک ہفتے میں آٹھ، دس ہزار روپے کا آرڈر آپ کو دے سکے، درمیانے درجے والی وہ ہونگی جو آپکو کم سے 5 ہزار کا آرڈر دے سکے اور چھوٹے درجے والے کم سے کم 2 سے 3 ہزار روپے کا۔

اس سروے پہ آپ جتنا وقت بھی لگا سکتے ہیں لگا لیں۔

اس سروے میں آپ سکول، کالجزز وغیرہ بھی شامل کرسکتے ہیں، جو کے سارے عموماََ بڑے لیول میں آتے ہیں لیکن یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ان کا کام سیزنل ہوتا ہے،  مطلب چھٹیوں، امتحانات کے دنوں میں اُن سے آپ کی سیلز بند ہوجاتی ہے۔

:کاروبار کو کامیابی سے شروع کرنے کا طریقہ

اب آپ نے کم سے کم ایک لوڈر رکشہ لینا ہے، جس آپ ان دوکانداروں کو فری میں مال سپلائی کرینگے اور جو کم سے کم 10 ہزار کا مال نقد پہ لے گا انہیں آپ 2 فیصد ڈسکاونٹ  دینگے  بہ شرط کہ انہوں نے اُس دس ہزار میں لوکل مال کم سے کم 3 ہزار روپے کا لیا ہو، اس آفر کا  آپ نے ہر دوکاندار کو بتانا ہے اور ساتھ میں وہ آئٹم بھی بتانے ہیں جن پہ یہ آفر لگتا ہے۔

کیونکہ لوکل میں آپ 3 ہزار پہ کم سے کم 15 فیصد تک کا منافع کماتے ہیں مطلب 450 روپے اب اگر آپ باقی مال پہ(7 ہزار روپے پہ) اوسط کے حساب سے 7 فیصد تک کا منافع کماینگے تو آپ 490 روپے کماینگے، مطلب 10 ہزار پہ کُل 9 سو 40 روپے اور 10 ہزار کا 2 فیصد 2 سو روپے ہوگیا مطلب آپ ڈسکاؤنٹ کے بعد 7 سو 40 روپے کا منافع دس ہزار روپے کے سیل پہ کماینگے۔

اس طرح کرنے سے نہ صرف آپ نقد پہ مال بیچنگے بلکہ آپ کی سیلز بھی زیادہ ہوگی اور گاہک بھی قابو کرلینگے۔

جہاں تک فری ڈیلوری کی بات ہے تو  لوڈر رکشے میں آپ آسانی کے ساتھ 70 ہزار روپے تک کا مال (سویٹس ) لے جا سکتے ہیں اگر ہم ان سارے سویٹس کا منافع اوسط کے حساب سے 7 فیصد لیں تو آپ 70 ہزار کے مال پہ کم سے کم  4 ہزار 900 روپے کا منافع کما سکتے ہیں، اس میں 1 ہزار تیل کا ڈال دے تو باقی آپ کو 4 ہزار بچتے ہیں اب آپ اگر مہینے کے 26 دن 70 ہزار کا مال بیچے تو آپ کا کُل منافع کم سے کم 1 لاکھ 4 ہزار روپے ہوگا۔

لوڈر رکشےسے فری ڈیلوری کی بات اس لیے کی کیونکہ آپ اس طرح سے اپنے گاہک بہت آسانی کے ساتھ قابو کرسکتے ہیں، کیونکہ پرچون سے وقت نکال کے ہول سیل جا کے مال خرید کے لانا بہت مشکل کام ہوتا ہے خاص کر جب مال بھی زیادہ لانا پڑے۔

اور یہ مشکل آپ نے ختم کردی۔۔۔۔ مطلب  گاہک آپکی مٹھی میں۔۔۔

اور اگر آپ ڈسکاونٹ آفر بھی دینگے تو یہ سونے پہ سہاگہ ہوجائے گا۔

:مال کہاں سے لینگے اور کتنا سرمایہ درکار ہوگا

مال کے لیے آپ کسی بھی دوسرے ہول سیلر کے پاس جاکر اُن سارے ڈسٹری بیوٹرز کا رابطہ نمبر لے سکتے ہیں جو اُن کو مال سپلائی کرتے ہیں، پھر آپ اُن سے رابطہ کرکے اپنے ایڈرس پہ سپلائی لے سکتے ہیں،  کم سے کم سرمایہ اس کام کو کامیابی سے شروع کرنے کے لیے ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے اور مناسب سرمایہ 3 سے 4 لاکھ روپے درکار ہوگا۔

اس سرمائے میں شاپ کی پگڑی، دوکان کی سیٹ اف اور لوڈر رکشہ کی قیمت شامل نہیں ہے، ویسے اگر آپ لوڈر رکشہ لے لیں تو پھر آپ کو مہنگی دوکان لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ لوڈر سے آپ کئی سے بھی گاہک کو مال پہنچاسکتے ہیں۔

اس کاروبار کو شروع کرنے سے پہلے اگر ہو سکے تو کم سے کم ایک سے دو مہینے کسی ہول سیل کے دوکان پہ کام کرکے نکال لیں تاکہ آپ کو اندازہ ہو کہ کونسی پراڈکٹس زیادہ رکھنی ہیں اور کونسی کم ، کونسی پراڈکس میں منافع زیادہ اور کونسی پراڈکٹس کی سیلز زیادہ ہے وغیرہ وغیرہ تاکہ جب اپنا کام شروع کریں تو کم سے کم نقصان اُٹھائیں۔

یہ کاروبار ناغہ بلکل برداشت نہیں کرتا لہازا بروقت اپنے کام پہ نکلا کریں اور چھٹی کم سے کم رکھیں، صرف جمعے یا اتوار کی چھٹی، باقی شروع اگرچہ آپ پاس گاہک کم ہوگا تو آپ اُس وقت اپنا سارا کام خود نپٹا سیکیں گے جبکہ جیسے جیسے کام بڑھتا جائے گا پھر آپ کو ایک دو بندے دوکان پہ رکھنے ہونگے، تنخواہ اُن کو مارکیٹ کے حساب سے دینی ہوگی۔

جہاں تک لوڈر رکشہ کے ڈرائیور کی بات ہے تو وہ آپ کو ایک لازمی رکھنا ہوگا، اُس کو آپ  12 سے 15 پندرہ ہزار مع ایک وقت کے کھانے پہ رکھ سکتے ہیں، کھانے کے لیے آپ اُس 90 روپے روز کے دیں۔

دوکان کے لیے ریکس وغیرہ بنوانے کے لیے آپ کسی بھی ویلڈنگ یا لکڑی کے کام کرنے والے سے بات کرسکتے ہیں۔

پہلے دو چار مہینے کام کافی سلو ہوسکتا ہے لیکن آپ نے ہمت نہیں ہارنی اور پھرپور محنت، صبر سے اپنے کام کو جاری رکھنا ہے، کاروبار جمنے میں ڈیڑھ سے دو سال لگ سکتے ہیں۔

آخر میں اس کاروبار میں آپ جتنا گڑ ڈالو گے اُتنا ہی یہ میٹھا ہوگا، آپ اس کے ساتھ مطلب پرچون اور جنرل سٹور کا کام بھی شروع کرسکتے ہیں لیکن بات وہی سرمائے پہ آئے گی۔

اس آرٹیکل کو ویڈیو کی شکل میں بھی  ایزی مارکیٹنگ کے یوٹیوب چینل پہ ڈالا گیا ہے  جو کے مندرجہ ذیل ہے اور بھی بہت سے اہم کاروباری مشورے اس چینل پہ موجود ہیں، اس چینل کو ضرور چیک کریں۔

مزید بزنس آئیڈیاز، کاروباری مشوروں کے لیے یہ لنک چیک کریں: کاروبار اُردو میں۔

اور مستقبل کے مزید ایسے اہم، مفید آرٹیکلز کو بذریع ای میل بلکل فری حاصل کرنے کے لیے اس ویب سائٹ کو سبسکرائب کریں۔

نوٹ: اس ویب سائیٹ کے آرٹیکل، پوسٹ  کاپی کرکے فیس بک  پہ، کسی ویب سائیٹ پہ، ای بک میں یا کسی اور پلیٹ فارم پہ کاپی کرکے پیسٹ کرنا کاپی رائیٹس وایلشن کے زمرے میں آتا ہے اور ایسا کرنے والے کے خلاف کاپی رائیٹس کے تحت کاروائی کی جائے گی، لہازا ایسا کرنے سے  اجتناب کریں اور صرف آرٹیکل کا لنک فیس بک پہ، کسی سائیٹ پہ،  ای بک وغیرہ  میں شئر کریں۔


About Publisher Arshad Amin

Certified SEO Professional, Small Business, Start-up, Marketing Expert with ton's of practical, actionable ideas, insights to share, Proud Founder and Owner of www.easymarketinga2z.com and www.topexpertsa2z.com

No comments:

Post a comment

Start typing and press Enter to search