50 Small Business Ideas in Urdu (اُردو زبان میں)

Here are some really awesome, easy business ideas in Urdu language! for all would-be desi Pakistani entrepreneurs 😉, no more !!!مُشکل انگریزی.


چھوٹے کاروبارں  کے ۵۰ آیڈیاز  (Ideas) اُردو میں:۔

اس پوسٹ میں، میں آپ لوگوں کے ساتھ نہ صرف ۵۰  کمیاب ترین چھوٹے کاروباروں (پاکستان میں) کے آیڈیاز share کرونگا بلکہ اس کیساتھ ساتھ آپ لوگوں کے ساتھ ہر کاروبار کو شروع کرنے، اُس کو manage کرنے یغنی اُس کے ہر پہلو خواہ وہ مارکیٹنگ ہو، اکاؤنٹس ہو، HR Management ہو، برانڈنگ ہو، سیلز ٹیم hiring ہوغیرہ وغیرہ جو بھی ہو میں آپ لوگوں کو practically، عملی طور پر سکاؤنگا۔

اور ہاں اس آرٹیکل کو لکھنے میں، میں نے کہی ہفتے لگاۓ ہں۔ صرف اسلیےٖٖ کہ آپ لوگوں کی عملی طور پہ  مدد کروں۔ تو پھر آپ کا بھی فرض بنتا ہے کہ آپ اس آرٹیکل کو share کریں اپنے فیس بک، ٹویٹر وغیرہ کے اکاونٹس پر۔

تو چلیۓ اس آرٹیکل کے بنیادی مقصد کی طرف۔

اہم نوٹ : میں آپ لوگوں کو یہ مشورہ دونگا کہ کسی بھی کاروبار کو شروع کرنے سے پہلے آپ کم سے کم 3 سے 2 مہینے اُس کاروبار میں صرف کریں، وہ اس لۓ کہ جب تک آپ کسی بہھی کاروبار میں اتنا time نہیں لگاتے تو آپ کو اُس کاروبار کے اہم ،ضروری پہلو سمجھ میں نہیں آتے۔ 

یاد رکھیں آپ نے یہ time ان لوگوں کے ساتھ صرف کرنا ہے جو اُس کاروبار کو پہلے سے ہی کامیابی کساتھ چلا رہے ہوں مطلب کہ وہ اُس کاروبار میں ماہر (expert) ہوں ۔ اس کا فائده یہ ہوگا کہ آپ اُس کاروبار کے ہر اہم، ضروری پہلو کو نہ صرف عملی طور پر جان جائینگے بلکہ ہر اُس غلطی کرنے سے بچ جائینگے جو آپ کرتے اگر خود سے کاروبار شروع کرتے۔

اس آرٹیکل میں، میں نہ صرف آپ کو چھوٹے کاروباروں کے ideas دونگا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہر business idea کے اہم پہلو پر بھی روشنی ڈالوں گا۔

وہ اہم پہلو مندرجہ ذیل ہیں:

۱: ابتدائی سرمایہ کاری (investment) کتنی درکار ہوگی اُس business idea  کو کمیابی سے شروع کرنے  کے لئے۔
۲: انسانی وسائل (human resource) کتنے درکار ہونگے اُس business idea کے لئے۔
۳: آپ کتنا کما سکیں گے ہر business idea سے۔
۴: کاروبار کی نوعیت کیا ہوگی، مطلب پرچون (retail) ، تھوک (wholesale)،تقسیم کار  (distribution)، مینوفیکچرنگ ((manufacturing یا فرنچائز (franchise) ۔
۵: کسی بھی idea کا مہینے بھر کا کل خرچہ/لاگت کتنا ہوگا۔
۶: کسی بھی business idea سے اچھا منافع کمانے کے لئے کم سے کم کتنی فی مہینہ sales درکار ہوگی۔

 میں نہ صرف اِن پہلؤں کی وضاحت کرونگا بلکہ اگر کسی بزنس آیڈیاء میں کوٖئی اور اہم پہلو ہوگا تو اُس کی بھی وضاحت کرونگا۔

تو چلۓ چلتے ہیں اپنے پہلے business idea کی طرف۔

بزنس آیڈیاء نمبر (1)- میڈسن ،فارمسی  پرچون (Retail): 

جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ پاکستان میں لوگ کافی صحتمند ہیں(بھائی طنز کر رہا ہوں)، اسی وجہ سے میڈسن کی کافی demand ہے۔ ہر چیز میں ملاوٹ ہے، غذائی قلت ہے اور اسی وجہ سے میڈسن کی کافی ڈیمانڈ ہے۔

اور چونکہ میڈسن کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے اس لیے منافع بھی بہت زیادہ ہے۔ آپ میڈسن کے بزنس (retail) میں آسانی کے ساتھ 35%۔60% فیصد تک فی ٖایک روپیہ منافع کما سکتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ جب آپ اس بزنس میں ایک روپیہ  لگاہیں گے تو آپ نہ صرف وہ ایک روپیہ واپس کمائیں گے بلکہ ساتھ میں 60-35 پیسے اُس ایک روپیہ پرکمائیں گے۔

میں خود بھی میڈسن کے فیلڈ سے وابستہ رہا ہوں، میں نے ایسے پراڈکس(products) ، مصنوغات دیکھیں ہیں جو 100%-300% فیصد تک منافغ دیتے ہیں، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میڈسن کے بزنس میں بہت منافغ ہے۔

سو اگر آپ اپنا بزنس شروح کرنا چاہتے ہیں تو میرا مشورہ آپ کے لیے یہ میڈسن کے بزنس کا ہوگا۔

میڈسن  پرچون (retail) کے بزنس کو چلانے کے لیے آپ کو 2-4 سیلز مین درکار ہونگے، جس میں ایک آپ ہونگے جو پرچون دوکان کے مینجر (manager) ہونگے اور اکاؤنٹس، کیش، اسٹاک مینجمینٹ (stock management) ، میڈسن کی سپلائی وغیرہ اور مجموعی نگرانی آپ کی ذمہ داری ہوگی۔ اور اگر آپ یہ کام بخوبی نہیں کرنیگے تو اس بزنس میں نقصان اُٹھاؤگے۔

کاؤنٹر سیلز کے لیے جو لڑکے آپ نے بھرتی کیے ہیں عام طور پر اُن کو آپ کم سے کم 6,000 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 10,000 ہزار کے تنخواہ پر رکھ سکتے ہیں۔

اِس کے علاوہ میڈسن کے پرچون، تھوک، distribution بزنس چلانے کے کچھ قانونی ضروریات ہیں جو آپ نے لازماََ پوری کرنی ہیں، اُس کے لیے یہ لنک چیک کریں۔

عام طور پر میڈسن پرچون کی دوکان کا کرایہ، بجلی کے بل، کھانے کا خرچہ وغیرہ وغیرہ 10 سے 15 ہزار روپے بنتا ہے، جب آپ اس میں سیلز مین کی تنخواہ ڈال دیں تو مہینے بھر کا خرچہ20 سے 30 ہزار روپے بنتا ہے۔

تو جناب عالی! مطلب یہ ہوا کہ اگر منافع 35%- 60% کے درمیان ہو تو آپ کو کم سے کم ایک لاکھ روپے کی میڈسن سیلز کرنی ہونگی تاکہ آپ مہینے بھر کا خرچہ پورا کر سکیں۔

تو ایک لاکھ روپے سیلز آپ کا مہینے کا کم سے کم سیلز ہدف (sales target) ہوا، جو آپ نے ہر صورت میں پورا کرنا ہوگا۔

اور آنے والے مہینوں میں آپ کی کوشش یہ ہو گی کہ آپ اس سیلز ٹارگٹ میں اضافہ کریں تاکہ آپ کا منافع بڑھے، اس کے لیے آپ کو تجربہ کار سیلز مینوں اور مزید سرمائے (investment)کی ضرورت ہوگی۔

یاد رکھیے: اس بزنس کی کمیابی میں مندرجہ ذیل عوامل کار فرما ہیں۔
1: دوکان کی لوکیشن
2: کاؤنٹر سیلز مینوں کا تجربہ
3: دوائی کے اقسام (جتنی زیادہ مانگ اور اقسام والی دوائی ہوگی اتنی زیادہ سیلز کے مواقع ہونگے)
4: میڈسن سپلائر کے ساتھ تغلق،اُن کی کریڈٹ پالیسی
5: علاقے میں صحت کی مجموعی صورت حال(جہاں پہ آپکا یہ بزنس ہو)

آپ یہ بزنس کم سے کم ۵ لاکھ روپے سے شروع کرسکتے ہیں بشرطیکہ آپ کے میڈسن کے سپلائر آپ کے ساتھ لمبا کریڈیٹ/قرض کریں۔

بزنس کے اکاؤنٹس کو سنبھالنے کے لیے ایک کمپیوٹر چاہیے ہوگا، اُس میں اکاؤنٹس، کیش، کریڈیٹ وغیرہ کا ریکارڈ رکھنے کے لیے مناسب سافٹ ویر انسٹال کرنا ہوگا، ٖایسا سافٹ ویر آپ کو بازار سے آسانی سے مل جائے گا اور اگر بلفرض آپکو پتہ نہ ہو کہ کہاں سے آپ یہ سافٹ ویر خرید سکتے ہیں تو آپ کسی بھی میڈسن بزنس والے سے پوچھ سکتے ہیں۔

یہ نہایت ضروری ہے، کیونکہ اس سافٹ ویر کے بغیر آپ کو بہت مشکل ہوگی اپنے بزنس کے کھاتوں، حساب، کیش، کریڈیٹ، اسٹاک وغیرہ کے بارے میں جاننے میں۔

یاد رکھیے:  میڈسن پرچون بزنس میں اگرچہ منافغ زیادہ ہوتا ہے پھر بھی بہت سے میڈسن کے بزنسس زیادہ کما نہیں پاتیں، وجہ سیلز (sales) کی کمی ہوتی ہے۔ اِس مسلئے کو آپ ڈسکاؤنٹ کے آفر سے حل کرسکتے ہیں، ڈسکاؤنٹ آپ نے اَتنا دینا ہے کہ دوسرے میڈسن کے بزنسس جو آپ کے آس پاس، آپ کے ایریاء (area) یا علاقے میں ہیں، اُن میں سے کوئی اور بزنس اُتنا نہ دیں۔ دوسرا حل یہ ہے کہ آپ کسی اچھی لوکیشن میں دُوکان لے، مثال کے طور پر کسی سرکاری یا نجی ہسپتال کے پاس۔

اب ہم دوسرے بزنس idea پہ جائنگے، لیکن اُس پہ جانے سے پہلے میں آپکو یہ بتانا چاہوں گا کہ کمپیوٹر، حساب کتاب کے لیے سافٹ ویر آپکو ہر بزنس میں درکار ہوگا، اسلیے میں ٖاِن چیزوں کو دوبارہ نہیں دُہراؤں گا۔ اور ہاں بزنس چاہے کوئ سا بھی ہو، آپ اچھا منافغ کم سے کم 6 مہینے اور زیادہ سے زیادہ 18 مہینے کے بعد دیکھیں گے۔ بشرطیکہ آپ پوری ہوشیاری، محنت، لگن سے اپنی بزنس پہ محنت کریں۔

بزنس آیڈیاء نمبر (2)- میڈسن تھوک (wholesale):

جہاں تک ہول سیل یا تھوک بزنس کی بات ہے، تو یہاں پہ اگرچہ منافغ (4%-10%)کم ہوتا ہے مگر سیلز بہت زیادہ ہوتی ہے اور اسی وجہ سے یہاں لوگ زیادہ کماتے ہیں بہ نسبت پرچون (retail) بزنس کے، کیونکہ آپ سارے پرچون والوں کو سیل کرتے ہیں۔

یہاں پہ آپ کا مہینے کا کُل خرچہ اوسطا 20-80 ہزار رُوپے کے درمیان ہوسکتا ہے۔ اَس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے اگر آپ مثال کے طور پر کسی مہنگے جگہ پہ دُوکان کھولیں یا بہت بڑی انویسٹمینٹ کریں وغیرہ وغیرہ۔

اچھا منافغ کمانے کے لیے آپ کو کم سے کم 10 لاکھ سے 50 لاکھ تک فی مہینہ سیلز کرنی ہوگی۔

ابتدائی انویسٹمنٹ (investment) کم سے کم 5 لاکھ اور زیادہ سے زیادہ 2 کروڑ روپے درکار ہوتی ہے۔ اگر آپ پانچ لاکھ سے بلفرض شروح کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ آپ یہ صرف اُس وقت کر سکتے ہیں اگر آپ کے سپلائیر جو آپ کو میڈسن دیں گے، آپ کو لمبے اور بڑے قرض پر مال دیں۔

یاد رکھیے اچھی، ملٹی نیشنل کمپنیاں بہت ہی کم لمبے ٹائیم کے لیے قرض دیتی ہیں۔

اور جب آپ کے پاس اچھی، ملٹی نیشنل کمپنیوں کا مال ہوگا تو آپ کی سیلز زیادہ ہوگی کیونکہ اُن کے مصنوعات کی ڈیمانڈ زیادہ ہوتی ہے۔ اَس لیے بہتر ہے کہ آپ اچھے انویسٹمنٹ سے یہ بزنس شروع کرے۔

جہاں تک سیلز ٹیم، مینجمینٹ (managment) وغیرہ کی بات ہے تو آپکوجتنے بندے مین نے پرچون (retail) کے لیے بتائے تھے وہ کافی ہیں، ہاں اگر آپ زیادہ مارکیٹ قابو کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو زیادہ بندے رکھنے ہونگے، اور اِن بندوں سے آپ نے مارکیٹ کا کام لینا ہوگا، مثال کے طور پر اُن سے نئے پرچون (retailers) والوں کو معلوم کرنا اور پھر اُن سے بات کرنا کہ وہ آپ سے بزنس کرے یا ڈاکٹرز کے پاس اُن کو بھیجنا کہ وہ آپ کی دوائی فروخت کریں وغیرہ وغیرہ۔

بزنس آیڈیاء نمبر (3)- میڈسن تقسیم کار (Distribution):

میرا مشورہ ہے کہ آپ میڈسن تقسیم کار (Distribution) بزنس میں تبھی جائیں جب آپکا کافی تجربہ ہوکیونکہ اِس بزنس میں بہت رسک، کمپنی کی طرف سے پریشر اور دیگر بہت سی پیچیدگیاں ہوتی ہیں، جو نئے بندے کے لیے سمجھنا، مینیج (manage) کافی مشکل ہوتا ہے۔ ہاں اگر کوئی تجربہ کار بندہ آپ کو اِس بزنس کو چلانے کے لیے فل ٹائیم دے یا آپ کسی ایسے بندے کو بھرتی کریں تو پھر بے شک آپ اِس بزنس کو شروع کریں۔

اِس بزنس میں اوسطا  آپ ایک روپے پے 7%-15% تک کا منافع کما سکتے ہیں۔ یہاں سیلز اور مصنوعات کی مانگ بہت زیادہ ہوتی ہے بشرطیکہ آپ اچھی، مشہور ملٹی نیشنل کمپنی کے مصنوعات کی تقسیم کاری (distribution) لیں۔

اچھی کمپنی کی تقسیم کاری (distribution) لینے کے لیے آپ کو بڑی انویسمنٹ کرنی ہوگی جو 2 کروڑ سے لیکر 20 کروڑ تک ہو سکتی ہے، جبکہ آپ چھوٹے سطح کی تقسیم کاری 6 لاکھ روپے سے بھی شروع کر سکتے ہیں۔ لیکن اُس میں اِتنا فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ اِتنی رقم میں آپکو لوکل چھوٹی پُرانی یا بلکل نئی کمپنی کی تقسیم کاری (distribution) مل سکے گی جس کے مصنوعات کی اتنی مانگ نہیں ہوگی۔

اِس بزنس میں مہینے کا کُل خرچہ اوسطاََ کم سے کم 25 ہزار روپے اور زیادہ سے زیادہ عام طور پر 3 لاکھ روپے تک ہوتا ہے، اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے، مثال کے طور پر آپ کے دوکان کا کرایہ زیادہ ہو یا آپ کے علاقے میں سیلز میں زیادہ تنخواہ مانگ رہے ہوں یا آپ کچھ خاص retailers/wholesalers کو مال سپلائی کرتے ہوں اور اُس وجہ سے آپ کا فیول کا خرچہ وغیرہ زیادہ آ رہا ہو وغیرہ وغیرہ۔

مہینے کے سارے خرچے پورے کرنے کے لیے اور اچھا منافع کمانے کے لیے آپکو کم سے کم 1 لاکھ اور زیادہ سے 1 کروڑ کی سیل کرنی ہوگی۔ 1 لاکھ سیل آپ تبھی کرے گیں جب آپ 6 لاکھ سے بزنس شروع کرے اور 1 کروڑ سیل اُس صورت میں جب آپ بزنس 2 کروڑ سے شروع کرے۔
  

بزنس آیڈیاء نمبر (4)- میڈسن مینوفیکچرنگ (Manufacturing):

میڈسن مینوفیکچرنگ سے میرا مطلب مختلف قسم کی دوائیاں خود بنانا، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ایلوپیتھک دوائیاں بنانے کے لیے کثیر سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے اسی لیے یہاں پہ میرا مطلب ایلوپیتھک مینوفیکچرنگ نہیں ہے بلکہ ہربل میڈسن مینوفیکچرنگ ہے۔ کیونکہ ہربل میڈسن مینوفیکچرنگ کے لیے بہت بڑے سرمائے کی ضرورت نہیں ہوتی، اس کا یہ مطلب نہیں کہ سرمائے کی بلکل ضرورت نہیں ہوتی جیسا کہ اوپر پرچون (retail) ، تھوک (wholesale) وغیرہ کے کاروباروں میں بیان ہوا۔

نوٹ: میڈسن مینوفیکچرنگ کوئی بھی ہو آپ کو لازماََ کچھ قانونی ضروریات پُوری کرنی ہوتی ہیں اُن ضروریات کو جاننے کے لیے ڈریپ کی ویب سائیٹ چیک کریں۔

ہربل میڈسن مینوفیکچرنگ کے لیے بھی سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے، آپ یہ بزنس کم سے کم 50 لاکھ میں شروع کرسکتے ہیں بشرطیکہ کہ آپ کارخانے کو چلانے والی مشینوں سے واقف ہوں اور وہ مشینیں آپ اچھے قیمت پر اور لمبے عرصے کے لیے قرض پر لے سکتے ہوں، اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے ہوں تو پھر آپ کو کم از کم 90 لاکھ روپے چاہیے ہونگے۔

یہاں عام طور پر فی روپیہ منافع 20% سے لیکر 50% تک ہوتا ہے، ظاہری طور پر 20% منافع کم لگتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے، جومصنوعات ہربل میڈسن مینوفیکچرنگ میں 20% منافع دیتی ہیں اُن مصنوعات کی مانگ مارکیٹ میں بہت زیادہ ہوتی ہے اور اسی زیادہ مانگ کی وجہ سے مارکیٹ میں ہربل میڈسن مینوفیکچرز کے درمیان مقابلہ سخت ہوتا ہے جس کی وجہ سے قیمتیں اُن مصنوعات کم ہوتی ہیں اور اسی وجہ سے منافع کم ہوتا ہے لیکن سیلز زیادہ ہوتی ہے اور مینوفیکچرز زیادہ کماتے ہیں۔

جبکہ زیادہ منافع اِس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اُن مصنوعات کی مانگ مارکیٹ نسبتاََ کم ہے اور یہ کہ زیاد تر ہربل مینو فیکچرز اِس پراڈکٹ (product) کو نہیں بنا رہے ہیں۔

ہربل میڈسن مینوفیکچرنگ بزنس کے شروع میں آپکو کم از کم 2-4 انتہائی تجربہ کار سیلز مینوں کی ضرورت ہوگی، جبکہ ایک تجربہ کار اکاؤنٹنٹ کی بھی ضرورت ہوگی بہتر ہوگا کہ یہ کام آپ خود سمبھالے بجائے کسی اور سے یہ کام لینے کے، تاکہ آپ کو ہر وقت علم ہو اپنے بزنس کی مجموعی صورت حال،سیلز کی  کارکردگی، روزمرہ کے اخراجات، نفع نقصان وغیرہ وغیرہ کے بارے میں۔ اِس کے ساتھ ساتھ آپکو 6 سے 10 بندے رکھنے ہوں گے فیکٹری (factory) میں کام کرنے کے لیے، اِن میں سے ایک بندہ آپ نے ایسا بھرتی کرنا ہے جو باقی بندوں سے کام لے سکیں، اِن کی نگرانی کر سکیں۔

آپ اپنے سیلز ٹیم کو فیکٹری سے مینج (manage) کر سکتے ہیں، شروع شروع میں یہی بہتر ہوگا کہ آپ سارا کام فیکٹری سے مینج کریں بجائے کسی اور آفس سے، اس کی وجہ یہ ہے کہ فیکٹری کے آفس سے آپ کی ہر چیز پے نظر ہوگی اور آپ ہر چیز کو بخوبی سمجھ جائے گے۔

اس کے ساتھ ساتھ آپ کو pharmacist, production manager,کیوسی ایکسپرٹ (QC Expert) وغیرہ کی بھی ضروت ہوگی۔

 اس سب کےساتھ ساتھ آپ کو اپنے فیکٹری کے لیے ایسے سپلائیر (suppliers) ڈہونڈنے ہونگے جو آپ کو آپ کی ڈیمانڈ کے مطابق خام مال بروقت سپلائی کر سکیں۔

ایک اور بات آپ کو بتاتا چلو وہ یہ کہ کسی بھی کمپنی کی کامیابی میں برینڈنگ (Branding) ، مارکیٹنگ (Marketing) ، ایڈورٹائیزنگ (Advertising) ، بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں سو آپ لوگوں کو چاہیے کہ اِن چیزوں کو عملی طور پہ سیکھیں، یہ چیزیں اور، اور بہت سے اہم پوانٹس میں اگلے آرٹیکلز میں شئیر کرونگا۔

جب آپ اِس کاروبار کو اچھی طرح سے چلائے گے اور وقت کے ساتھ اچھی طرح سے سمجھ جائینگے، تجربہ ہو جائے گا تو پھر آپ بہت آسانی کے ساتھ ایلوپیتھک مینوفیکچرنگ کی طرف جا سکے گے۔

بزنس آیڈیاء نمبر (5)- ویب سائٹ (Website):

اگر آپ کسی شعبے میں عرصہ دراز سے کام کر رہے ہوں، تو یقیناََ آپکا کافی تجربہ ہوا ہوگا۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کو اِس شعبے کے ہر چیز کا، ہر پہلو کا تجربہ، علم ہے اور اگر آپ کسی کو مفید،عملی مشورہ دینا چاہے تو دے سکتے ہیں۔ جیسا کہ میں کر رہا ہوں، میرا بزنس، مارکیٹنگ وغیرہ میں کافی تجربہ ہے اور اُسے میں شئیر کر رہا ہوں۔

آپ بھی اسی طرح کا ویب سائیٹ سٹارٹ کر سکتے ہیں اور گوگل ایڈورٹائیزنگ یا پھر ایفلیٹ مارکیٹنگ کے ذریعے اچھے خاصے پیسے کما سکتے ہیں۔ اسی طرح آپ اپنی ویب سائیٹ پہ مختلف مصنوعات، سروسس بھی بیچ سکتے ہیں۔ ویب سائیٹس کے ذریعے ہزاروں پاکستانی لاکھوں کما رہے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ابھی اس فیلڈ میں مقابلہ بھی بہت کم ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ آپ آسا نی کے سا تھ اس بز نس میں داخل ہو سکتے ہیں۔

ایک ویب سائیٹ کو بنانے میں بہت کم خرچہ آتا ہے، آپ ایک اچھا ویب سائیٹ تقریباََ 10 سے 15 ہزار رُوپے میں بنا سکتے ہیں۔ لیکن پھر اُس پہ آرٹیکلز لکھ کے ڈالنا اور SEO ، SEM کرنا کافی وقت لیتا ہے۔

جہاں تک ویب سائیٹ سے پیسے کمانے کی بات ہے تو یہ سارا مندرجہ ذیل عوامل پہ انحصار کرتا ہے۔

1: SEO, SEM,
2 : Keyword Research
3 : Content Marketing
4 : Social Media Marketing 

آپ کو اگر ایک کمیاب ویب سائیٹ چاہیے تو اوپر کے چاروں عوامل کو الف سے یی تک عملی طور پے سیکھنا ہوگا۔ جب تک آپ اِن چیزوں کو عملی طور پے نہیں سیکھے گے آپ بہت مشکل سے اس بزنس میں کامیاب ہونگے۔ اِن چاروں عوامل کو آپ برائین ڈین کے ویب سائیٹ سے آسانی کے ساتھ سیکھ سکتے ہیں۔

مگر بدقسمتی سے برائین ڈین کے آرٹیکلز انگریزی میں ہیں۔ خیر آنے والے دنوں میں، میں خود اِن چیزوں کو شئیر کرونگا اور انشااللہ آپ سب کچھ یہاں سے سکھ لین گے۔ ویب سائیٹ کے بزنس میں مزے کی بات یہ ہے کہ آپ اپنا جاب، نوکری بھی کرسکتے اورساتھ میں اچھی انکم بھی ویب سائیٹ سے کما سکتے ہیں۔ دوسری مزے کی بات یہ ہے کہ وہ انکم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جائے گی۔

عموماََ ایک اچھا بنا ویب سائیٹ آپکو مہینے میں 20 ہزار سے لے کر لاکھوں کا انکم دے سکتا ہے بشرطیکہ آپ اوپر دیے گئے 4 عوامل کو مددِ نظر رکھ کے اُس ویب سائیٹ کو بنائے۔

بزنس آیڈیاء نمبر (6)- سافٹ وئیر ہاوس (Software House):

جیسا کہ میں نے اوپر بتایا کہ ویب سائیٹ یا انڑنیٹ سے پیسے کمانے کا رجحان پاکستان میں ابھی نیا نیا ہے بلکل اسی طرح سے کمپیوٹر، موبائیل، ویب، آٹی  اور دیگر چیزوں کے لیے سافٹ وئیرز بنانے کا رجحان بھی تقریباََ نیا نیا ہے۔

اِس بزنس کو سٹارٹ کرنے کے لیے آپ سب سے پہلے ایسے بندے بھرتی کرنے ہونگے جو سافٹ وئیرز بنانے میں ماہر ہوں۔ 

شروع میں 2 ایسے بندے مناسب ہونگے جبکہ اِن کے ساتھ ساتھ آپ کو 1 یا 2 اور بندے بھی درکار ہونگے جو آپ بزنس کے لیے کسٹمر معلوم کرسکے تاکہ آپ اُن سے بزنس کر سکے۔

آج کل سافٹ وئیر ہاؤسسز بہت پیسہ بنا رہے ہیں کیونکہ مارکیٹ میں مقابلہ بھی کم ہے اور گاہک کو مصنوعات کا علم بھی کم ہے جس کی وجہ سے سافٹ وئیر ہاؤسسز منہ مانگی قیمت وصول کر رہے ہیں۔

آپ ایک چھوٹا سافٹ وئیر ہاؤس 1 لاکھ میں شروع کر سکتے ہیں بشرطیکہ آپ کے سافٹ وئیر بنانے والوں کے پاس اُن کا اپنا ہیوی ڈیوٹی کمپیوٹرہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو پھر آپ کو کم سے کم 4 سے 8 لاکھ کی انویسمنٹ کرنی ہوگی۔ دونون صورتوں میں، میں نے بیسک تنخواہ سافٹ وئیر بنانے والوں کی 18 ہزار جمع کمیشن رکھی ہے جبکہ جو بندہ گاہک ڈھونڈے گا اُس کی تنخواہ  12 ہزار پلس کمیشن رکھی ہے، جبکہ باقی پیسوں میں رینٹ اور سادہ سا  آفس فرنیچر وغیرہ۔

اس بزنس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کو شروع کے دنوں میں یا تو مستقل بنیادوں پر چھوٹے گاہک ملتے رہے تاکہ آپ کا مہینے کا کُل خرچہ+ منافع نکلتا رہے یا پھر آپ کو نسبتاََ بڑے پراجیکٹس (مہینے میں 2 یا 3 ) ملتے رہے تاکہ آُپ کا بزنس  کامیا بی کے ساتھ چلتا رہے۔ اِس کے لیے ضروری ہے کہ جو بندے آپ نے گاہک ڈھونڈنے کے لیے لگائے ہوں وہ اِس کام میں ماہر ہو اور نسبتاََ بڑے پراجیکٹس کے لیے اُن کو ٹینڈر یا ٹھیکہ جیتنے کا خاص تجربہ ہو۔ 

اگر آپ کو مارکیٹ سے ایسے لوگ نہ ملے جو آپ کے لیے مارکیٹ سے گاہک لا سکے تو پھر آپ آن لائین (online) ، انٹرنیٹ کے ذریعے مُستقل اور اچھے گاہک ڈھونڈ سکتے ہیں، اُس کے لیے آپ کو ایسے بندے چاہیے ہونگے جو اِس کام میں ماہر ہوں۔

مہینے بھر کا کُل خرچہ 40 سے 80 ہزار کے درمیان ہوگا، جس میں کھانا، یوٹیلٹی بلز، کرایہ، تنخواہیں وغیرہ شامل ہیں۔

یہاں پہ آپ ایک روپے پہ اوسطاََ 15% سے 35% کے درمیان منافع کما سکتے ہیں، جبکہ اِس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔

بزنس آیڈیاء نمبر (7)- ٹی سپاٹ (Tea Spot):

اِس سے بہتر کیا ہوگا کہ آپ 5 سے 7 روپے منافع فی چائے کے کپ/پیالی کمائے اور دنِ میں کم از کم 300 کپ بیچے۔ یہ ہوگئے 1500 سے 2100 روپے (منافع) ایک دن کے، اور مہینے کے یہ ہو گئے اوسطاََ 43,200 رُوپے(منافع) ، جب آپ چائے کا ایک پیالا 10 روپے میں بیچو گے تو کم سے کم منافع 5 روپے ہوگا، باقی کے پانچ روپے گیس، دودھ، چینی، پتی، یوٹیلیٹی بلز میں صرف ہو گئے۔ اُن 43,200 رُوپوں میں سے 10-8 ہزار روپے کرایہ ہوگیا جبکہ 24,000 ہزار تین بندوں کی تنخواہ ہوگئی، جو چائے بنائے گا اُس کی تنخواہ 12,000 پلس کمیشن جبکہ چائے دو بندے جو چائے serve کریں گے اُن کی 6, 6 ہزار پلس کمیشن۔

کمیشن اُس صورت میں آپ دیں گے کہ اگر وہ مہینے (24 دن) بھر میں  72,000 روپے سے زیادہ سیل کریں گے۔ 72,000 میں اس لیے کہاں کہ جب آپ 10 روپے فی کپ چارج کریں گے تو روزانہ 3,000 ہزار روپے سیل کریں گے (10X300=3000) ، اور مہینے میں 72,000=24X3000 روپے کی سیل کریں گے۔ جس میں اوسطاََ 43,200 روپے منافع ہوگا۔ اب اگر تنخواہیں، کرایہ اِن پیسوں سے نکالا جائے تو آپ11,200 روپے مہینے بھر کا خالص منافع کمائے گے۔ میں نے مہینے کے 24 دن اِس لیے گنوائے کیونکہ یہی دن کام کے دن ہوتے ہیں جبکہ اتوار کو چُھٹی ہوتی ہے۔

اب آپ سوچے اگر ایسے پا نچ ٹی سپاٹ آپ کے ہوں تو آپ مہینے بھر کا  کتنا خالص منافع کمائے گے اور اگر دس ہوں ہا ہا ہا۔۔۔۔ تو جناب چائے میں بھی بہت پیسہ ہے اس لیے تو وہ مشہور چائے والا پھر سے چائے بنانے کے طرف آ گیا!

ٹی سپاٹ بزنس کو شروع کرنے پے اتنا خرچہ نہیں آتا، آپ نے بس کچھ ٹیبلیں، کُرسیاں، کیتلیاں، چائے کے لیے پیالیاں وغیرہ  کا انتظام کرنا ہے اور شروع ہو جائیے۔ ضروری نہیں کہ آپ یہ چیزیں نئی خریدیں۔ سب سے اہم چیز اِس بزنس میں لوکیشن ہے، اگر لوکییشن اچھی ہوگی تو سیلز اچھی ہوگی سو فائدہ زیادہ ہوگا مثلا ََ کسی ہسپتال، جیوڈیشنل کمپلکس میں، کسی یونیورسٹی، کالج میں، کسی پارک، سیر سپاٹے کے جگہ وغیرہ پے۔

بزنس آیڈیاء نمبر (8)- برگر سپاٹ (Burger Spot):

برگر سپاٹ کی کامیابی بھی ٹی سپاٹ کی طرح لوکیشن پہ منحصر ہے اور اس کو شروع کرنے کے لیے بھی ویہی چیزیں درکار ہیں جو ٹی سپاٹ کے لیے درکار تھی البتہ کتلیوں اور پیالیوں کی جگہ برگر پلیٹس، برگر بریڈ وغیرہ درکار ہونگے۔

اس بزنس کو آپ تقریبا ََ اُتنی ہی انویسمنٹ سے شروع کرسکتے ہیں جتنی ٹی سپاٹ کے لیے درکار ہے۔ اس بزنس میں آپ 40% سے لیکر 70% تک فی روپیہ منافع کما سکتے ہیں اور اس کو شروع کرنے کے لیے آپ کو کم سے کم 2 بندے درکار ہونگے، ایک برگر بنانے والا اور ایک serve کرنے والا۔

بزنس آیڈیاز نمبر (9, 10)- پولٹری پرچون/تھوک-مینوفیکچرنگ (Poultry Wholesale & Manufacturing/Retail):

تحکیک کے مطابق پاکستان میں پولڑی کاروبار کی کُل قدر 750 ارب روپے ہے اور اس سے تقریباََ 15 لاکھ لوگوں کا روزگار وابستہ ہے اور پاکستان میں کُل 25,000 ہزار کے لگ بھگ پولڑی فارمز ہیں۔

اِن حقائق سے ہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں پولٹری بزنس کافی کامیاب ہے اور یہ کہ اس بزنس میں کافی competition یا مقابلہ ہے۔ اسی وجہ سے یورپ کے 4 ممالک بشمول چین، برازیل، کوریہ نے پاکستان  کے پولٹری سیکٹر میں تقریباََ 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔

اِس بزنس (پُولڑی پرچون)  میں آپ تقریباََ 30% سے لیکر 45% تک کا منافع فی روپیہ کما سکتے ہیں۔ چھوٹے سطحے کا یہ بزنس (پرچون)  آپ 20-15 ہزار رُوپے میں شروع کر سکتے ہیں۔ جس میں دُوکان کا کرایہ، اُس میں مُرغیوں کے لیے پارٹیشن، ذبحہ کرنے کے اوذار، 40-30 مُرغیاں اور مُرغیوں کے لیے خوراک، یو ٹیلیٹی بلز وغیرہ شامل ہے۔ اگر آپ نے کسی بندے کو رکھنا ہے دُوکان کو مینچ کرنے کے لیے تو پھر آپ کی انویسمنٹ یا لاگت زیادہ ہوگی۔ 

یاد رکھئے: اِس بزنس کے کامیابی کا انحصار مانگ پر ہے، جس علاقے میں مُرغیوں کی مانگ زیادہ ہوگی اُتنی ہے سیل زیادہ ہوگی اور نتیجتاََ منافع زیادہ ہوگا۔

پولٹری تھوک و مینوفیکچرنگ (Wholesale & Manufacturing) شروع کرنے کے لیے آپ کو مندرجہ ذیل چیزوں کی ضرورت ہوگی۔

1: 6000-3000 مربع فٹ ہوادار جگہ جس کے اوپر چھت یا شیڈ ہو۔
2: مُرغیاں یا چوزوں والی مشین اگر آپ خود سب کچھ کرنا چاہتے ہیں۔
3 : مُرغیوں کے لیے خوراک، ٹیکے وغیرہ
4: نگرانی کے لیے بندے، جو ماہر ہو اس کام میں
5: مارکیٹ سپلائی کرنے کے لیے گاڑیاں
6: سیل کرنے کے لیے بندے

ایک مُرغی 3 مربع فٹ جگہ لیتی ہے،  اس حساب سے 3000 مربع فٹ میں تقریباََ 1000 ہزار مُرغیاں آجائے گی۔ اگرچہ چوزوں سے شروع کرنے میں بہت فائدہ ہے مگر اُس کام میں رسک اور محنت بہت ہے میرا مشورہ آپ کو یہ ہوگا کہ آپ ایک مہینے کے عُمر مُرغیوں سے شروع کرے۔

 ایک ہزار مُرغیاں آپ کو 150,000 اور 170,000 ہزار رُوپے کے درمیان پڑ جائے گی۔ 3000 مربع فٹ کے area میں لوہے کا شیڈ لگانے پہ تقریباََ 130,000 ہزار رُوپے خرچہ آئے گا۔ جبکہ سپلائی کے گاڑیوں پہ 4-3 لاکھ فی گاڑی خرچہ آئے گا، اسی طرح کرایہ، فیول، یوٹیلٹی بلز، تنخواہیں وغیرہ کُل ملا کے، آپ 15-12 لاکھ میں یہ بزنس شروع کرسکتے ہیں۔

اس بزنس میں آپ تقریباََ 4%-8% تک کا منافع کما سکتے ہیں، یہ درُست ہے کہ منافع کم ہے بنسبت پرچون کے مگر چونکہ یہاں پہ سیلز بہت زیادہ ہوتی ہے اور اسی لیے آپ زیادہ کماتے ہیں بنسبت پرچون کے۔ 

مُرغیوں کو پالنے کے لیے کچھ اہم ہدایات:
1: شیڈ میں صفاٖئی کا خاص خیال رکھیں۔
2: ویکسین وغیرہ کا بروقت انتظام کرے۔
3:مُرغیوں کے انڈوں کے لیے مناسب انتظام کرے۔

اگرچہ ان چیزوں کو یہاں پہ بیان کرنا اِتنا ضروری نہیں تھا کیونکہ آپ نگرانی کے لیے جو بندہ یا بندے لین گے اُن کو اِن چیزوں کا بخوبی علم ہوگا کیونکہ وہ اِس کام میں ماہر ہونگے لیکن پھر بھی میں نے سوچا کہ شئیر کر دو کیا پتہ کوئی نقصان سے بچ جائے۔


بزنس آیڈیاء نمبر 11 ٹیلی کمیونکیشن پرچون (Telecommunication Retail):

سم کارڈز، بیلنس کارڈز ، ایزی لوڈ سیل، بنڈل ایکٹویشن، انٹرنیٹ ڈیوائیسز، سمارٹ فون سیل وغیرہ میں بہت اچھا مارجن ہے اگر آپ صحیح وقت، صحیح جگہ پر، صحیح انویسٹمنٹ کریں۔ یہ بزنس ہسپتال میں، مشہور پارک میں، آرمی کے کینٹ میں، یونیورسٹی میں، مشہور بڑے شاپنگ مال میں یا کسی زیادہ رش والی جگہ پے آپ کامیابی کے ساتھ شروع کر سکتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے بہت سے پرچون والے پارک، ہسپتال، شاپنگ مال وغیرہ میں فی کارڈ زیادہ چارج کرتے ہیں مثال کے طور پے زونگ کا سُو رُوپے کا کارڈ وہ 110 یا 115 رُوپے میں بیچیں گے اور کسٹمر بہ خوشی/مجبوری کی وجہ سے وہ کارڈ خریدتے ہیں۔

یہ بزنس آپ کم سے کم دولاکھ میں شروع کرسکتے ہیں بہ شرطہ کہ سمارٹ فون کا بزنس اس میں شامل نہ ہو  اور اگر آپ سٹوڈنٹ ہیں تو اپنی یونیورسٹی کے ہاسٹل سے یہ بزنس (بغیر سمارٹ فونسز اور انٹرنیٹ ڈیواءسیز کے) 15 سے 20 ہزار میں شروع کر سکتے ہیں لیکن اُس کے لیے ضروری ہے اِس کے ساتھ ساتھ  آپ کم سے کم 30 سے 40 ہزار کا کریڈٹ کریں۔ اِس بزنس کو چلانے کے لیے آپ کو ایک سے تین بندے درکار ہوتے ہیں۔ یہاں آپ ایک رُوپے پہ اوسطاََ 5% سے 10% کماتے ہو جس میں سمارٹ فونسز اور انٹرنیٹ ڈیواءسیز وغیرہ سے منافع شامل نہیں ہے، جو عموماََ 10% اور 35% کے درمیان ہوتا ہے۔

آپ کا مہینے کا کُل خرچہ عموماََ 3 ہزار سے لیکر 25 ہزار کے درمیان ہوتا ہے جبکہ مُناسب منافع کمانے کے لیے آپ کو کم سے کم 1.5 لاکھ سے 10 لاکھ کی سیل فی مہینہ کرنے ہوگی۔

یاد رکھیئے: اِس بزنس میں لوکیشن، ڈیمانڈ، موبائیل سیگنل، سروس کی کوالٹی، مارکیٹ میں مُقابلہ وغیرہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اور ہاں اگرچہ فی رُوپیہ مُنافع یہاں پے کم ہے لیکن چونکہ سیل، ڈیمانڈ بہت زیادہ ہوتی ہے تو آپ اُس انویسٹمنٹ کو جلدی جلدی، بار بار گردش میں لاکر زیادہ کما پاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ہر 100 بندوں میں سے 71 بندے موبائیل فون /ٹیلی فون کے مالک ہیں جبکہ ٹوٹل موبائیل نیٹ ورک یوزرز جنوری 2017 کے تحقیق کے مطابق 137,095,352 ہیں۔

بزنس آیڈیاء نمبر 12 ٹیلی کمیونکیشن تھوک (Telecommunication Wholesale) :

اگرچہ فی روپیہ منافع ٹیلی کمیونکیشن تھوک میں کم ہوتا ہے لیکن سیلز کی زیادتی اس کمی کو پورا کر لیتی ہے، آپ عموماََ 7 سے 9 فیصد تک منافع کماتے ہیں، جبکہ کم سے کم لاگت اس بزنس کو کامیابی سے شروع کرنے کے لیے دو لاکھ اور زیادہ سے زیادہ بیس لاکھ درکار ہوتی ہے۔

جیسا کہ پہلے عرض ہو چکا ہے، کہ اس بزنس آیڈیاء میں سمارٹ فون، انٹرنیٹ ڈیواءسیز وغیرہ کا بزنس شامل نہیں ہے اگر آپ یہ چیزیں بھی شامل کرینگے تو پھر آپ کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ لاگت اس بزنس کو سٹارٹ کرنے کے لیے بڑھے گی۔

اس بزنس میں انسانی وسائل یا اس بزنس کو کامیابی سے چلانے کے لیے جو بندے درکار ہونگے وہ کم سے کم 1 سے 3 ہیں، ان میں سے ایک تمام بزنس کی نگرانی کرے گا جبکہ باقی دو سیلز پے توجہ دینگے، وہ ایک بندہ جو نگرانی کرے گا اُس کے نگرانی میں کاروبار کے سارے اہم اُمور مثلا اکاؤنٹس، سیلز، سٹاک وغیرہ کی نگرانی شامل ہے۔

اس بزنس کو کمیابی سے چلانے کے لیے مہینے میں کم سے کم سیلز ہدف 3 لاکھ 50 ہزار اگر انویسٹمنٹ دو لاکھ ہو اور زیادہ سے زیادہ 15 لاکھ اگر انویسٹمنٹ بیس لاکھ ہو، مہینے کا کم سے کم خرچہ 20 ہزار اور زیادہ سے زیادہ  30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوتا ہے جس میں دوکان کا کرایہ، میس، سیلزمینوں کی تنخواہ وغیرہ شامل ہے۔

یہاں پے کامیابی کا دارومدار  لوکیشن، گاہک کے ساتھ تعلق، گاہکوں کی تعداد کو بڑھانا، کمپنی کے ساتھ تعلق، سیلز مینوں کا تجربہ، بزنس کی برینڈنگ، مارکیٹنگ وغیرہ پہ ہے۔

اس پوسٹ کو وقتاََ بووقتاََ مزید بزنس آیڈیاز سے اپ ڈیٹ کیا جائے گا، لہذا آپ اِس ویب سائیٹ کو visit کرتے رہیں اور ساتھ میں اِس ویب سائیٹ کو subscribe کرنا نہ بھولیں کیونکہ میں آنے والے دنوں میں مزید عملی، practical آرٹیکلز  چھوٹے کاروبار پہ، مارکیٹنگ، سیلز پہ، مختلف مصنوعات کی مینو پیکچرنگ وغیرہ وغیرہ پہ شئیر کرونگا (اُردو زبان میں)۔ 

جب آپ subscribe کریں گے تو آپ وہ آرٹیکز اپنے ای میل کے اِن بکس (inbox) میں پا ئینگے۔ اس طرح آپ کوئی بھی آرٹیکل مس نہیں کریں گے۔

About Publisher Arshad Amin

Certified SEO Professional, Small Business, Start-up, Marketing Expert with ton's of practical, actionable ideas, insights to share, Proud Founder and Owner of www.easymarketinga2z.com and www.topexpertsa2z.com

No comments:

Post a Comment

Start typing and press Enter to search